سوڈان میں ڈرون حملہ، یو این امن مشن کے 6 بنگلادیشی اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سوڈان میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے تعلق رکھنے والے 6 بنگلادیشی اہلکار جاں بحق ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق یہ حملہ ہفتے کے روز سوڈان کے کوردوفان ریجن میں یو این مشن کے بیس پر کیا گیا۔
ڈرون حملے میں بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے 6 امن اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ مزید 6 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اور تمام زخمیوں کا تعلق بھی بنگلادیش سے ہے۔
بنگلا دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ اہلکاروں کو فوری اور ہر ممکن ہنگامی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے جاں بحق اہلکاروں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی امن مشن کے اہلکاروں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے عملے کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے اور ایسے حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
سوڈانی فوج نے اس حملے کا الزام باغی گروپ ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) پر عائد کیا ہے۔ تاہم آر ایس ایف کی جانب سے واقعے پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے شدید خانہ جنگی جاری ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کے مشن کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔