اسرائیل: کار پر فضائی حملے میں حماس کے اہم کمانڈر دو ساتھیوں سمیت شہید
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں اسرائیلی فوج کی جنگ بندی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں اور آج بھی ایک فضائی حملے میں 3 فلسطینی شہید ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایک کار پر کیا گیا یہ حملہ حماس کے اہم ترین کمانڈر رعد سعد کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا جن کی موجودگی کی اطلاع انٹیلی جنس نے دی تھی۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ غزہ سٹی میں ایک گاڑی پر کیے گئے فضائی حملے میں حماس کے ایک اہم ترین عسکری کمانڈر رعد سعد کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ رعد سعد حالیہ مہینوں میں حماس کے لیے اسلحے کی بحالی اور تیاری کی کوششوں میں سرگرم رہے تھے۔
اسرائیلی فوج نے ابتدائی طور پر حملے میں رعد سعد کی شہادت کی تصدیق نہیں کی تھی تاہم اب باضابطہ تصدیق کردی گئی ہیں ہے کہ شہید ہونے والے رعد سعد ہی ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل نے غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم تین افراد شہید ہوگئے۔
اسرائیل نے یہ فضائی حملہ جنگ بندی لائن کے اس حصے میں کیا جو اب بھی حماس کے کنٹرول میں ہے جو کہ غزہ سیز فائر کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔
غزہ میں حالیہ مہینوں کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور یہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
تاحال حماس کی جانب سے اپنے سرگرم ترین کمانڈر رعد سعد کی شہادت کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حملے میں کو نشانہ حماس کے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔