Express News:
2026-07-24@05:18:49 GMT

ایک عام سی بات

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

انسانی جسم کی تشکیل کے دوران دل پہلے اور دماغ بعد میں وجود میں آتا ہے، یہ دونوں انسانی جسم کے بنیادی اعضاء ہیں، جسم کے دیگر اعضاء بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں مگر جب تک انسان کا دل اور دماغ ٹھیک سے اپنا کام سر انجام دیتے ہیں اُس کی سانسوں کی ڈور چلتی رہتی ہے۔ ایک توانا دل اور صحت مند دماغ کا امتزاج ہی انسان کی اندرونی اور بیرونی تازگی کا ضامن ہوتا ہے۔

انسانوں کے بارے میں عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ جس کا دل مضبوط ہو، اُس کا دماغ مشکل سے ہی تھکتا ہے، اس کے برعکس نازک دل تھکن زدہ دماغ کی وجہ بنتا ہے۔

خالقِ انسانی نے اپنی پسندیدہ مخلوق کو جہاں ایک طرف اپنی تمام تخلیقات پر فضیلت عطا فرمائی ہے، وہیں دوسری طرف اسے بیشمار احساسات کا منبع بھی قرار دیا ہے۔

احساس پر عمل کا گہرا اثر ہوتا ہے اور یہی انسانی جسم میں روح کی موجودگی کی زندہ جاوید علامت سمجھا جاتا ہے۔احساسات دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک مثبت اور دوسرے منفی، انسانی دماغ کو یہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ انسان ایک عجوبہ ہے،کیونکہ اگر وہ کسی عمل کوکرنے یا شے کو پانے کا پکا ارادہ کر لے تو اُس میں کامرانی حاصل کر کے ہی دم لیتا ہے، پھر چاہے اُس کے پاس ہمت، حوصلے، وسائل، ذرایع اور مواقعوں کا فقدان ہی کیوں نہ ہو۔

انسان ’’ من موجی‘‘ کی تعریف پر من وعن پورا اُترتا دکھائی دیتا ہے، اس کے من کو بھائے تو خوب دوڑ لگائے اور جب جی نہ چاہے تو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھائے۔مولانا جلال الدین رومی سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا، زہرکیا ہے؟ آپ نے فرمایا، ’’ ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہو وہ زہر ہے جیسے قوت، اقتدار، دولت، بھوک، لالچ، محبت اور نفرت۔‘‘

ایک وقت میں بیشمار احساسات کی انسانی جسم میں موجودگی اور اُس میں سے ہر احساس کو ذہن پر سوار رکھنا انسان کو روشنی سے اندھیروں کی جانب کم وقت میں پہنچا دیتا ہے اور ایسے ہی اندھیروں کے بارے میں مرشد رومی فرماتے ہیں، ’’ اپنی زندگی کے تاریک لمحات میں بھی بغیرکسی خوف کے انتظار کرو۔‘‘ یہاں انتظار سے مراد ہے سوچوں کی یلغار پر بند باندھ کر کچھ وقت کے لیے چین کے لمحات جینا۔

ہم انسان کائنات کے جس سیارے پر اُتارے گئے ہیں وہاں دوڑ کا مقابلہ زور شور سے جاری و ساری ہے، افراتفری کا بھیانک عالم ہے اور نفسا نفسی کا جِن بوتل سے باہر نکل کر انسانی زندگیوں کو سالم نگل رہا ہے، ان حالات میں انسان اپنا آپ سنبھالنے میں بالکل قاصر نظر آرہا ہے۔

انسان کو مٹی سے خلق کیا گیا ہے اور مٹی بدلتے ہوئے موسموں کا سب سے زیادہ اثر لینے والی شے ہے، برسات میں یہ بہت نم ہو جاتی ہے، تیز ہوا کے جھونکوں میں یہ بکھر جاتی ہے، تپتی گرمی میں یہ بنجر صحرا کا روپ دھار لیتی ہے اور طوفان کے وقت اس میں دھول شامل ہو جاتی ہے۔

انسانی طبیعت میں اُس کی تخلیقی شے کے جزو کے تمام اثرات واضح طور دکھائی دیتا ہے۔زِیست انسانی ربِ کریم کا خوبصورت تحفہ ہے جس میں خوشنما بہاریں، رنگوں بھرے دن، ہنستا کھلکھلاتا وجود ابنِ آدم اور اُمنگوں بھری کرن موجود ہوتی ہے۔

بندہ بشر کو فریب سے نکال کر سفر کی سختیاں محسوس کروا کر حقیقتِ زندگانی کی چوکھٹ تک لے جایا جاتا ہے لیکن اندر صرف وہی لوگ داخل ہوتے ہیں جنھوں نے اپنے کٹھن سفر کو وسیلہ ظفر سمجھا ہو۔ پرُسکون ایام صرف تبھی پُر لطف مانے جاتے ہیں جب زندگی کی مسافتوں میں انسان اپنے وجود کو ڈھیلا چھوڑ کر اذیت کا ہر احساس بہادری کے ساتھ محسوس کرے اور اپنی زخمی روح پر نکلنے والے آبلوں کا مداوا بھی خود ہی کرے۔

اس کرہ ارض پر ایسا کوئی فرد نہیں جس کی زندگی میں کسی قسم کا رنج و غم موجود نہ ہو، یہاں پھولوں کی سیج پر براجمان افراد کو بھی کانٹوں کی چبھن محسوس ہوتی ہے، اس دنیا کا ہر دوسرا انسان ذہنی یا جسمانی اعتبار سے تھکا ہوا ہے۔

گزرتے ہوئے زمانوں، بدلتے ہوئے سالوں اور موسموں میں پیدا ہوتی شدتوں نے انسانوں کا طرزِ زندگی بالکل بدل کر رکھ دیا ہے اور تازہ ہوا کا جھونکا قصہ پارینہ بن کر رہ گیا ہے۔

ہماری دنیا جدیدیت کی اُس چوٹی پر پہنچی ہوئی ہے جہاں سے مزید بلندیوں کی راہیں ہموار ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہاں کے باسی اپنے نڈھال وجود کو منظرِ عام پر لانے سے نہ صرف ہچکچاتے ہیں بلکہ ذلت کا احساس بھی محسوس کرتے ہیں۔

اگر کسی غیر جاندار چیز، جانور یا انسان پرحد سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے تو یہ یکساں طور پر سبھی کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے، انسان کے جسمانی اعضاء کا بھی یہی معاملہ ہے جب کسی عضو سے اُس کی وسعت سے زیادہ کام لیا جاتا ہے تو صرف وہی نہیں اُس سے منسوب دیگر اعضاء بھی تکلیف کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جدید دنیا کا انسان تقریباً اپنے تمام معاملاتِ زندگی کے حوالے سے ترقی پسند سوچ کا مالک ہے، ماسوائے اپنی اور اپنے اطراف کے لوگوں کی ذہنی تھکن کے۔

اس دنیا میں موجود انگنت معاشروں اور وہاں بسنے والے افراد عقل و فراست کے گروہ سے تعلق رکھتے ہوں یا پستہ سوچ کے، وہ سبھی بے چینی اور ذہنی اضطراب و بوجھ کی ظاہری علامات کو پاگل پن یا نیم پاگل پن کی کیفیت گردانتے ہیں۔

جب کسی انسان کو دل کی بیماری لاحق ہوتی ہے تو اُسے ہمارا معاشرہ قلبی مریض کہہ کر زِچ نہیں کرتا، لیکن ایسا ذہنی تھکن زدہ افراد کے ساتھ ضرورکیا جاتا ہے۔ جس طرح بیمار قلب کو خاص توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی تھکے ہوئے ذہن کے مالک افراد بھی خیال، فکر، توجہ، اپنائیت اور محبت کے مستحق ہوتے ہیں۔

اس دنیا کا انسان بیشمار اخلاقی برائیوں کے ہمراہ دوغلے پن کا بھی شکار ہے، وہ مرض دینے والے کے بجائے مریض کو مرض کا مورودِ الزام ٹھہراتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان کے ذہن کو تھکانے میں اُس کا اپنا ہاتھ ہوتا ہے ساتھ اس میں بھی دو رائے نہیں ہے کہ اندرونی سے زیادہ بیرونی عوامل انسان کی ذہنی سرگرمیوں کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں کسی فرد کا خود کے ذہن کو تھکا ہوا ماننا انگاروں پر ننگے پاؤں چلنے کے مترادف ہے پھر اگر وہ ڈرتے، سہمتے اپنے مرض کی تشخیص کے بعد ماہرِ نفسیات کے پاس علاج کی غرض سے چلا جائے تو دنیا والے اُسے ایسی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ اُس کی مشکل سے جمع کی ہوئی ہمت اور شخصی اعتماد فضا میں محلول ہو جاتا ہے۔

ذہن کا تھکا ہوا ہونا یا ذہن پرکسی قسم کا بوجھ موجود ہونا، ایک عام سی بات ہے اگر حقیقت کی عینک لگا کر دیکھا جائے تو ہماری دنیا کا ہر دوسرا فرد ذہنی طور پر بیمار ہے۔

آج اگر ہم دوسروں کو اُن کے تھکن زدہ ذہن کی وجہ سے Alien سمجھیں گے تو کل کوئی دوسرا بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک روا رکھے گا۔ دنیا بہت تیزی سے آگے کی جانب بڑھ رہی ہے ہمیں بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر صرف چلنا نہیں بھاگنا بھی ہوگا۔

محض رہن سہن کے حوالے سے نہیں بلکہ اپنی سوچ میں وسعت پیدا کرنے اور دوسروں کے درد کو محسوس کرتے ہوئے اُن کے لیے اپنے دل میں احترام کا جذبہ اُجاگر کرنے اور اُس کا عملی مظاہرہ کرنے کے اعتبار سے بھی اور جب ہم ایسا کر جائیں گے، تبھی ہم صحیح معنوں میں ماڈرن انسان کہلانے کے اہل ہونگے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سے زیادہ جاتا ہے ہوتی ہے دنیا کا ہے اور

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا