معروف اداکار، ہدایتکار اور پروڈیوسر یاسر نواز نے اپنی اہلیہ، میزبان ندا یاسر کے دفاع میں سامنے آ کر سوشل میڈیا پر ایک متنازع معاملے کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
یہ تنازع ندا یاسر کے ایک بیان سے شروع ہوا، جس میں انہوں نے فوڈ رائیڈرز کے بارے میں کہا تھا کہ بعض اوقات وہ صرف ٹپس لینے کے بہانے چینج نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہیں اور بڑی رقم وصول کر لیتے ہیں۔ اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی گئی، اور کئی فنکار بھی اس میں شامل ہو گئے۔
اداکارہ اور میزبان فضا علی نے اپنی ویڈیو میں ندا یاسر کے بیان پر کڑی تنقید کی۔ فضا علی نے کہا کہ فوڈ رائیڈر دھوپ، بارش اور طوفان میں اپنی روزی کمانے نکلتے ہیں، اور یہ بھی کسی کے باپ، بھائی یا بیٹے ہوتے ہیں۔ اُن کے مطابق اگر ٹپس نہ دیں تو کم از کم ان کی عزت تو کرنی چاہیے۔ اس ویڈیو نے صارفین میں کافی ہلچل مچا دی اور بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔
اس کشیدہ ماحول میں یاسر نواز خاموش نہیں رہ سکے اور انہوں نے فضا علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”ہیلو فضا، کیسی ہو؟ پلیز میری معصوم بیوی کو معاف کر دو۔ اللہ تو معاف کر دیتا ہے، لیکن لوگ نہیں کرتے۔ میری بہن، پلیز اسے معاف کر دو اور اس معاملے کو یہیں ختم کرو۔”
سوشل میڈیا صارفین نے یاسر نواز کے موقف کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اپنی بیوی کے دفاع میں کھڑا ہونا بہادرانہ عمل ہے۔ کئی لوگوں نے لکھا کہ معاملہ اب ختم ہونا چاہیے، خصوصاً جب ندا نے بھی اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے۔
تاہم، کچھ صارفین اب بھی ندا یاسر سے ناراض ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ معروف اور سینیئر میزبان ہونے کے باوجود ندا اب تک نہیں سیکھ پائیں کہ کب، کہاں اور کیسے اپنی بات رکھنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: یاسر نواز ندا یاسر فضا علی

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل