یمنیٰ زیدی کو ایوارڈ شو میں بولڈ لباس پہننے پر شدید تنقید کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ یمنٰی زیدی اپنی شاندار اداکاری اور متنوع کرداروں کے باعث بے حد مقبول ہیں۔
وہ ٹی وی اور فلم دونوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔
یمنٰی کے مشہور ڈراموں میں بختاور، پری زاد، پیار کے صدقے، رازِ الفت، تیرے بن، گزارش، تھکن، ذرا یاد کر، عشقِ لا، یہ رہا دل اور دیگر شامل ہیں۔
حال ہی میں انہیں ڈرامہ جینٹل مین اور قرضِ جاں میں بھی خوب سراہا گیا۔
اس کے علاوہ وہ فلم نایاب پر لکس اسٹائل ایوارڈ جیت چکی ہیں اور جلد ہی ایک رمضان اسپیشل ڈرامے میں نظر آئیں گی۔
کراچی میں منعقدہ 24ویں لکس اسٹائل ایوارڈز میں یمنٰی زیدی نے ڈیزائنر شہلا چتور کا تیار کردہ تھری پیس لباس زیب تن کیا۔
اس لباس میں روز گولڈ لمبی اسکرٹ، اینٹیک گولڈ کراپ ٹاپ اور کڑھائی و ٹِلّہ ورک سے مزین چمکدار جیکٹ شامل تھی۔
View this post on Instagram
A post shared by All Pakistan Drama Page (@allpakdramapageofficial)
تاہم سوشل میڈیا پر ان کے اس انداز پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
بعض صارفین نے لباس کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ یمنٰی اس میں آرام دہ محسوس نہیں کررہیں۔
چند مداحوں نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیا، جبکہ کچھ افراد نے سخت تنقید بھی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔