پاکستان کااپنی چائے کی کاشت اور اس کی تجارت کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
پاکستان نے اپنی چائے کی کاشت اور اس کی تجارت کا فیصلہ کیا ہے جس میں چین،پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت چینی سرمایہ کاری کو سب سے زیادہ امید افزا ء اور تبدیلی لانے والا آپشن سمجھا جا رہا ہے، ابتدائی طور پر چینی اور سری لنکن چائے کے بہترین معیار کے پودے قومی نرسریوں کے ذریعے تقسیم کرنے ، کلسٹر فارم اور پودا لگانے کے ماڈلز کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اس حکمت عملی کے تحت پاکستان کے 650 ملین ڈالر سالانہ چائے کے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے خیبر پختونخوا ہ میں بڑے پیمانے پر چائے کی کاشت کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اس کے تحت 2030 تک مانسہرہ میں 600 ایکڑ پر نجی چائے کے باغات قائم کرنا شامل ہے جس سے سالانہ 2,500 میٹرک ٹن سبز پتے پیدا کرنے کا تخمینہ ہے اور 2040 تک مکمل طور پر مربوط چائے کی صنعت کی بنیاد میسر آئے گی۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ چائے کی پروسیسنگ، پیکیجنگ اور برانڈنگ میںموثراقدامات پاکستانی چائے کو عالمی منڈی میں منفری حیثیت دلوانے میں مدد دیں گے۔فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے قومی چائے پالیسی کنسلٹنٹ ڈاکٹر محمد خورشید نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے جس میںچینی پارٹنرز اہمیت کے حامل ہیں۔ایف اے او کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے چائے کے شعبے کی طویل مدتی کامیابی بیرونی سرمایہ کاری، مضبوط توسیعی خدمات اور عالمی معیار کی پروسیسنگ کے معیار پر منحصر ہوگی جن میں چینی تعاون پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سالانہ 252,000 ٹن چائے استعمال کرتا ہے اور اس کا 99فیصددرآمد کرتا ہے۔ چائے کی کاشت سے کھیتوں میں 10ہزار افراد کو روزگار کے مواقع ملنے کا امکان ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چائے کی کاشت چائے کے
پڑھیں:
سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
لندن، لاہور (نمائندہ خصوصی، خصوصی نامہ نگار) سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کے بیٹے انس سرور برطانیہ کے نئے وزیر تجارت مقرر ہوگئے۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے انس سرور کو وزیر تجارت مقرر کر دیا ہے۔ وہ اپنی نئی تقرری کے بعد ہاؤس آف لارڈ کے ممبر بھی بن جائیں گے۔ انس سرور کو برطانیہ کے تینوں ہاؤسز کا ممبر بننے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہو گیا ہے، وہ اس سے پہلے برطانوی سیاست میں مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ برطانیہ بھر میں پاکستانیوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔