Islam Times:
2026-07-24@09:02:21 GMT

عراقی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل حمید الشطری کون ہیں؟!

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

عراقی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل حمید الشطری کون ہیں؟!

1991ء میں صدام رژیم کیخلاف شعبانیہ بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کے بعد انہیں، ان کے خاندان کے کچھ اراکین کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے باعث وہ 1993ء تک جیل میں رہے۔ اسلام ٹائمز۔ "حمید الشطری" کے نام سے مشہور "حمید رشید فلیح ساهی الزیرجاوی" اس وقت عراقی انٹیلیجس چیف ہیں۔ جن کا نام "محمد شیاع السوڈانی" کی مدت ختم ہونے کے بعد، عراق کی وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ویب سائٹ "الخنادق" نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ کچھ ذرائع کے مطابق، شیعہ پارٹیوں کے اتحاد "شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک" نے وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے حمید الشطری اور "علی الشکری" کو نامزد کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں میں اہلیت، دیانتداری اور تجربہ موجود ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان دو ناموں میں سے ایک کو، فریم ورک کے فریقین کی تقریباً 70 فیصد حمایت حاصل ہو گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کون سا نام شارٹ لسٹ ہو چکا ہے۔ الخنادق کی رپورٹ کے مطابق، حمید الشطری جنوبی عراق کے صوبہ ذی قار سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ 1969ء میں اسی علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ نوجوانی ہی سے صدام حسین کی رژیم اور بعث پارٹی کے مخالف تھے، جس کی وجہ سے انہیں گرفتاری اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1986ء میں صدام مخالف گروہ میں شامل ہوئے اور 1991ء میں صدام رژیم کے خلاف شعبانیہ بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کے بعد انہیں، ان کے خاندان کے کچھ اراکین کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے باعث وہ 1993ء تک جیل میں رہے۔

رہائی کے بعد کچھ عرصے تک جنوبی عراق کے علاقوں میں خفیہ طور پر آتے جاتے رہے۔ بعد ازاں وہ، عراق حكومت كے زیر اثر ریاست کردستان چلے گئے۔ جہاں انہوں نے 1997ء تک اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ حمید الشطری نے 1998 میں عراق چھوڑ دیا۔ وہ پہلے اسلامی جمہوریہ ایران آئے اور پھر سوئزرلینڈ چلے گئے، جہاں انہوں نے کچھ عرصے قیام کیا۔بیرون ملک صدام مخالفین کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، یورپ میں ان کی کئی میٹنگز میں شرکت کی اور ساتھ ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن کے شعبے میں اپنی ڈگری مکمل کی۔ 2003ء میں امریکہ کے عراق پر حملے اور سقوطِ صدام کے بعد، حمید الشطری عراق واپس آئے اور اپنی سرگرمیوں کے نئے دور کا آغاز کیا۔ اس پورے عرصے کے دوران انہوں نے سیکورٹی اداروں میں اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ اب تک قومی سیکیورٹی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر، "فالکنز انٹیلی جنس یونٹ" کے ڈائریکٹر، عراقی وزارت داخلہ میں انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت وہ عراقی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے سربراہ ہیں۔ داعش کے خلاف جنگ کے دوران، حمید الشطری نے "عشائری حشد" کے معاملات کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں عربی، انگریزی، فارسی اور جرمن زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حمید الشطری کے بعد

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم