Islam Times:
2026-06-03@04:19:37 GMT

عراقی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل حمید الشطری کون ہیں؟!

اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT

عراقی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں شامل حمید الشطری کون ہیں؟!

1991ء میں صدام رژیم کیخلاف شعبانیہ بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کے بعد انہیں، ان کے خاندان کے کچھ اراکین کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے باعث وہ 1993ء تک جیل میں رہے۔ اسلام ٹائمز۔ "حمید الشطری" کے نام سے مشہور "حمید رشید فلیح ساهی الزیرجاوی" اس وقت عراقی انٹیلیجس چیف ہیں۔ جن کا نام "محمد شیاع السوڈانی" کی مدت ختم ہونے کے بعد، عراق کی وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ویب سائٹ "الخنادق" نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ کچھ ذرائع کے مطابق، شیعہ پارٹیوں کے اتحاد "شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک" نے وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے حمید الشطری اور "علی الشکری" کو نامزد کیا۔ کہا جا رہا ہے کہ دونوں میں اہلیت، دیانتداری اور تجربہ موجود ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان دو ناموں میں سے ایک کو، فریم ورک کے فریقین کی تقریباً 70 فیصد حمایت حاصل ہو گئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ کون سا نام شارٹ لسٹ ہو چکا ہے۔ الخنادق کی رپورٹ کے مطابق، حمید الشطری جنوبی عراق کے صوبہ ذی قار سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ 1969ء میں اسی علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ نوجوانی ہی سے صدام حسین کی رژیم اور بعث پارٹی کے مخالف تھے، جس کی وجہ سے انہیں گرفتاری اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1986ء میں صدام مخالف گروہ میں شامل ہوئے اور 1991ء میں صدام رژیم کے خلاف شعبانیہ بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کے بعد انہیں، ان کے خاندان کے کچھ اراکین کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ جس کے باعث وہ 1993ء تک جیل میں رہے۔

رہائی کے بعد کچھ عرصے تک جنوبی عراق کے علاقوں میں خفیہ طور پر آتے جاتے رہے۔ بعد ازاں وہ، عراق حكومت كے زیر اثر ریاست کردستان چلے گئے۔ جہاں انہوں نے 1997ء تک اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ حمید الشطری نے 1998 میں عراق چھوڑ دیا۔ وہ پہلے اسلامی جمہوریہ ایران آئے اور پھر سوئزرلینڈ چلے گئے، جہاں انہوں نے کچھ عرصے قیام کیا۔بیرون ملک صدام مخالفین کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، یورپ میں ان کی کئی میٹنگز میں شرکت کی اور ساتھ ہی انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمیونیکیشن کے شعبے میں اپنی ڈگری مکمل کی۔ 2003ء میں امریکہ کے عراق پر حملے اور سقوطِ صدام کے بعد، حمید الشطری عراق واپس آئے اور اپنی سرگرمیوں کے نئے دور کا آغاز کیا۔ اس پورے عرصے کے دوران انہوں نے سیکورٹی اداروں میں اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ اب تک قومی سیکیورٹی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر، "فالکنز انٹیلی جنس یونٹ" کے ڈائریکٹر، عراقی وزارت داخلہ میں انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت وہ عراقی نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے سربراہ ہیں۔ داعش کے خلاف جنگ کے دوران، حمید الشطری نے "عشائری حشد" کے معاملات کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں عربی، انگریزی، فارسی اور جرمن زبانوں پر عبور حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حمید الشطری کے بعد

پڑھیں:

گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ

​حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔

رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟

جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔

خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔

​نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔

​پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔

قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

​لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔

​یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیدہ سفینہ ملک

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں