بھارت ریاستی پشت پناہی میں پاکستان کے خلاف دہشتگردی کر رہا ہے، ترجمان دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرانی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی مسلسل جاری ہے۔
اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ متنازع اور نفرت انگیز بیان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان ملک کے دفاع اور تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ انڈونیشیا کے صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا حالیہ دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ اس دوران وزیراعظم نے انڈونیشیائی صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا، جب کہ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔
طاہر حسین اندرانی کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے ڈپٹی وزیراعظم کا ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ رابطہ ہوا، جب کہ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے ساتھ بھی ٹیلیفونک گفتگو کی گئی۔ دونوں روابط میں غزہ کی تازہ صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ رفاہ کراسنگ کھولنے کے حوالے سے اسرائیلی بیان پر پاکستان سمیت 8 اسلامی و عرب ممالک نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک