لبنان کے وزیر خارجہ یوسف راجی نے کہا ہے کہ انہوں نے فی الحال ایران کا دورہ کرنے کی دعوت مؤخر کر دی ہے اور اس کے بجائے کسی باہمی طور پر طے شدہ غیر جانبدار تیسرے ملک میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی تجویز دی ہے۔

یوسف راجی نے دورۂ ایران نہ کرنے کی وجہ موجودہ حالات کو قرار دیا تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس فیصلے کا یہ مطلب نہیں کہ لبنان ایران کے ساتھ بات چیت سے انکار کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب، ایران اور چین کا بیجنگ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ

واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے لبنانی وزیر خارجہ کو دعوت دی تھی تاکہ دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کی جا سکے۔

لبنانی وزیر خارجہ نے کہا کہ لبنان ایران کے ساتھ تعمیری تعلقات کے ایک نئے دور کے آغاز کے لیے تیار ہے، تاہم اس کی شرط یہ ہے کہ تعلقات باہمی احترام، دونوں ممالک کی آزادی اور خودمختاری کے مکمل اعتراف اور کسی بھی بہانے سے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم ہوں۔

حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے مطالبات کی طرف بظاہر اشارہ کرتے ہوئے، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کی اتحادی مسلح تنظیم ہے، یوسف راجی نے کہا کہ کوئی مضبوط ریاست اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک ہتھیار رکھنے کا مکمل اختیار صرف حکومت کے پاس نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دے دی

حزب اللہ، جو ایک عرصے تک لبنان میں ایک طاقتور سیاسی قوت اور ریاستی معاملات میں اثر و رسوخ رکھتی تھی، گزشتہ سال اسرائیلی حملوں کے باعث شدید طور پر کمزور ہو گئی تھی، جن کا اختتام امریکا کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے پر ہوا۔

اس کے بعد حزب اللہ پر اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے کرے اور تمام اسلحہ ریاستی کنٹرول میں دے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایران دورہ لبنان وزیر خارجہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران ایران کے حزب اللہ

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان