پی ایس ایل، 2 نئی فرنچائزز کے لیے بنیادی قیمت 13 کروڑ روپے فی سال مقرر
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تمام 6 موجودہ فرنچائزز کی قیمت میں تقریباً 3 گنا اضافہ کر دیا ہے اور دو نئی فرنچائزز کے لیے فی سال 13 کروڑ روپے کی بھاری بنیاد قیمت مقرر کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کا مظفرآباد میں پی ایس ایل میچز کرانے کا فیصلہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے اب تک قیمتوں کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا، جو 2016 میں لیگ کے آغاز کے وقت اپنائی گئی پریکٹس سے مختلف ہے۔ تاہم نئی قیمتیں تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔ 2016 کے برعکس، جب فرنچائز کی قیمتیں امریکی ڈالر میں دی گئی تھیں، اب بورڈ نے تمام مالی معاملات پاکستانی روپے میں منتقل کردیے ہیں۔
موجودہ فرنچائزز کی نئی قیمتیںکوئٹہ گلیڈی ایٹرز — 2019 کے چیمپیئن — اب بھی سب سے کم قیمت والی فرنچائز ہیں، جن کی سالانہ قیمت تقریباً 3.
پشاور زلمی — 2017 کے فاتح — کی قدر بڑھ کر 4.8 کروڑ روپے سالانہ ہو گئی ہے، جو پہلے 1.6 ملین امریکی ڈالر تھی۔
کراچی کنگز — 2020 کے چیمپیئن — کی قیمت اب 6.5 کروڑ روپے سالانہ مقرر کی گئی ہے، جو پہلے 2.6 ملین امریکی ڈالر تھی۔
لاہور قلندرز — 2022، 2023 اور 2025 کے فاتح — کی قیمت 6.7 کروڑ روپے سالانہ رکھی گئی ہے، کراچی کنگز کے مقابلے میں معمولی زیادہ۔
یہ بھی پڑھیں: لندن میں پی ایس ایل کا شاندار روڈ شو، محسن نقوی کا لیگ کو نمبر ون بنانے کا اعلان
ملتان سلطانز — جو لیگ میں پہلی دو سیزنز کے بعد شامل ہوئے اور پہلے سب سے زیادہ قیمت 6.3 ملین امریکی ڈالر تھی — کو اب 10.8 کروڑ روپے سالانہ کی نئی قیمت دی گئی ہے۔
پی سی بی نے فرنچائزز کے سالانہ کھلاڑی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا، جو فی ٹیم 1.4 ملین امریکی ڈالر پر برقرار ہے۔
2 نئی فرنچائزز کے لیے منصوبہ بندیپی سی بی نے لندن میں ایک روڈ شو منعقد کیا تاکہ دو نئی فرنچائزز اور ملتان سلطانز کے لیے سرمایہ کار تلاش کیے جا سکیں۔ بورڈ نے 6 شہروں راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ، حیدرآباد، مظفرآباد اور گلگت کو شارٹ لسٹ کیا ہے، جن میں سے 2 شہر منتخب کیے جائیں گے تاکہ PSL کی ٹیموں کی تعداد 8 ہو جائے۔
پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ نیویارک میں بھی ایک روڈ شو کرے گا، جو بورڈ کی عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ 2 نئی فرنچائزز کی نیلامی سے قبل بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جاسکے۔ یہ اقدام لیگ کی تجارتی طاقت، عالمی فالوئنگ اور طویل مدتی ترقی کے امکانات دکھانے کے لیے ہے۔
پی سی بی کے عالمی منصوبے میں پاکستانی کھلاڑینیویارک کے روڈ شو میں چھ پاکستانی مرد کھلاڑی حصہ لیں گے، جن میں T20I کپتان سلمان علی آغا، ابرار احمد، فہیم اشرف، صائم ایوب، شان مسعود اور سعود شکیل شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی سی ایل پی سی بی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔