رانا ثناء اللّٰہ—فائل فوٹو 

وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کو بار بار مذاکرات کا کہا مگر سینئر لیڈر شپ نے جواب دیا کہ انہیں بات کرنے کی اجازت نہیں، بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد مذاکرات شروع کرنے کا بتائیں گے۔

 ’جیو نیوز‘ کے  پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ میں پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے رانا ثناء اللّٰہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت اور پی ٹی آئی میں ڈیڈ لاک ہے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے پارٹی کی اجازت سے پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی، اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس طاقت ہی نہیں تو کیا ہم بغیر کسی انڈر اسٹینڈنگ کے بات کر رہے تھے، پی ٹی آئی کو یہ بھی کہا کہ اسپیکر ہاؤس جائیں ہم وہاں بات کرنے آ جاتے ہیں، ان کے سینئر لوگوں نے کہا کہ ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں۔

 انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نےکہا کہ ہماری بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کروائیں، ارکان نے کہا کہ ملاقات کروائیں تاکہ ہم بانیٔ پی ٹی آئی کو سمجھائیں، جیل اور باہر جو گفتگو ہو رہی تھی اس سے ڈیڈ لاک مزید واضح ہو گیا۔

پروگرام میں شریک پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پُرامید ہوں کہ کوئی راستہ نکلے گا کوئی سیاسی حل ڈھونڈ لیں گے، میری نظر میں بھی اس وقت مکمل ڈیڈ لاک ہے، ہم نے کہا کہ کچھ ایسا ماحول دیں جس سے لگے کہ آپ کے پاس اختیار ہے، بانیٔ پی ٹی آئی کی ہدایات کے بغیر مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے بیان سے پہلے بھی مہینہ مہینہ ملاقاتیں بند ہوتی تھیں، بشریٰ بی بی نے تو سیاسی بات نہیں کی، ان کی فیملی کو ملنے کیوں نہیں دیا جا رہا؟

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ میں نے ان کو کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو تمام سہولتیں مل رہی ہیں، ہم خود جیل میں فراہم کردہ سہولتیں دیکھنا چاہتے ہیں، کہا کہ میری سربراہی میں کمیٹی بنے جو جیل جائے، ایسا تو ممکن نہیں، بشریٰ بی بی سے متعلق میری معلومات ہیں کہ ان کی ملاقاتیں نہیں روکی گئیں۔

مشیر وزیرِ اعظم نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیشہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی ہے، لوگ اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کرتے ہیں لیکن افواجِ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، تحریکِ انصاف اس بات میں فرق نہیں رکھتی، افواج کے خلاف بات کرتی ہے، پی ٹی آئی کا کوئی وفد کسی شہید کے جنازے اور نہ تعزیت کے لیے گیا،  بھارتی میڈیا کو انٹرویوز اور گفتگو سے پی ٹی آئی کو نقصان پہنچا۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سیاست نہیں محاذ آرائی کر رہے ہیں اور افواجِ پاکستان کے خلاف کر رہے ہیں، بانیٔ پی ٹی آئی بھی بانیٔ متحدہ والے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: رانا ثناء الل پی ٹی ا ئی کو نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا