پینل آف دی چیئر علی زاہد کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں پیپلزپارٹی کے اراکین نے شور شرابہ کیا جب کہ پی ٹی آئی اراکین نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اراکین محنت کر کے سوالات لاتے ہیں، صرف گول مول جواب دیے جاتے ہیں اور صرف ٹی اے ڈی اے بنایا جاتا ہے، یہاں جو کتابوں میں جو لکھا جاتا ہے اس کا 10 فیصد بھی نہیں ہے، وزیر صاحب ایف ای بی کے ٹال فری نمبر پر ابھی کال کریں کوئی جواب آئے تو بتا دیں۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی کے سوال کا جواب تفصیلی دیا گیا ہے، لابی میں جا کر ٹال فری نمبر پر بھی کال کر لیتے ہیں، یہ جو یہاں تقریر کر رہے ہیں یہ سیاسی ہے۔

پینل آف چیئر علی زاہد نے آغا رفیع اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو لابی میں بیٹھ کر معاملات حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

اس دوران پی ٹی آئی اراکین ایوان میں پہنچ گئے، اراکین نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کیا، اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کی۔

اپوزیشن اراکین نے نقطہ اعتراض مانگ لیا ، پینل آف چیئر نے وقفہ سوالات کے دوران نقطہ عتراض دینے سے معزرت کر لی اور کہا کہ وقفہ سوالات میں نقطہ عتراض نہیں دیا جائے گا۔

اس دوران اپوزیشن رکن اقبال افریدی نے کورم کی نشاندہی کر کردی، پینل آف چیئر کی عملے کو اراکین کی گنتی کی ہدایت کی، کورم سے متعلق اراکین کی گنتی میں ایوان میں کورم پورا نکلا۔

نبیل گبول نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کوئی سینٹر میرے حلقے میں نہیں ہے، خواتین وہاں رش کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتی ہیں، وہاں بیٹھے لوگ کرپشن کر رہے ہیں 15 سو روپے ہر خاتون سے لیتے ہیں۔

وفاقی وزیر پیر عمران شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کو شفاف بنانے کی ہدایت کی ہے، مارچ 2026 تک سارا نظام ڈیجیٹل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہماری حکومت میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی۔

آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہاں وزیر تو کوئی ہے نہیں سوالوں کے جوابات کون دے گا، اپوزیشن کا کردار ہم ادا کر رہے تو ہماری حوصلہ افزائی کریں۔

پینل آف چیئر علی زاہد نے کہا کہ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری صاحب یہاں ہیں،آغا رفیع اللہ نے کہا کہ طارق فضل صاحب اپنی باتوں میں لگے ہوئے ہیں، آئیں طارق فضل چوہدری صاحب کوئی حساب کتاب کر لیں۔

اس دوران اپوزیشن رکن اقبال افریدی نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کر دی، کورم سے متعلق ایوان میں اراکین کی تعداد گنی گئی تو حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی۔

پینل آف دی چیئر علی زاہد نے کہا کہ ایوان میں 63 اراکین موجود ہیں، پینل آف دی چیئر کے اعلان کے دوران پیپلزپارٹی کے اراکین نے شور شرابہ کیا، قومی اسمبلی کے اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میرا توجہ دلاؤ نوٹس روکنےکےلیے قومی اسمبلی کا سیشن مؤخر کرنے کی ہدایات دی گئیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں ان کا کہنا تھا کہ قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر انتہائی مایوسی ہوئی ہے، کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ اسپیکر کو سیشن مؤخر کرنے کی ہدایات دی گئیں تاکہ میرا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ ہو سکے، اجلاس کو مؤخر کرنا نہایت چھوٹی اور گھٹیا سیاسی چال ہے۔

حکومت نے جواب نہ دیا تو پارٹی آگے کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی، عبدالقادر پٹیل

اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی رہنما عبدالقادر پٹیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ابھی وقفہ سوالات کے دوران میرا سوال مکمل نہیں ہوا تھا کہ کیسے کسی ممبر کا مائیک کھول کر کورم کی اجازت دی گئی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما جا کر لابی میں بیٹھ گئے، یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا، شہید بے نظیر بھٹو ائیرپورٹ کی جگہ تبدیل ہو گئی تو اسکا نام کیسے تبدیل ہو گیا؟ کیا نادرہ آفس کی بلڈنگ تبدیل ہونے سے اسکا نام تبدیل ہو جائے گا؟ کیا پارلیمنٹ کی بلڈنگ کی جگہ تبدیل ہو تو اسکا نام بھی تبدیل ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر کو کسی تعریف کی ضرورت نہیں، چھوٹی سوچ کے لوگ ہیں، ہمیشہ چھوٹے ہی رہیں گے، آپ ایک ایئرپورٹ کا نام چھپاتے پھر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کیسی بھونڈی سازش ہے؟ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پر چیز کا ڈٹ کا مقابلہ کیا، حکومت نے جواب نہ دیا تو پیپلز پارٹی میٹنگ میں طے کر کے فیصلہ کرے گی کہ آگے کیا لائحہ عمل ہو گا۔

وزیر اعظم خاتون اول سے کی گئی اپنی بات کو یاد کریں، شازیہ مری

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شایہ مری نے کہا کہ اگر آپکو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اسمبلی میں صرف تماشا لگانے آئے گی تو ایسا نہیں ہے، کیا آج بھی وہ بغض ہے کہ ایک ایئرپورٹ کا نام نہیں رکھا جا رہا؟ وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہوں کہ اپنی بات کو یاد کریں جو آپ نے خاتون اول سے کی ہے۔

شازیہ مری کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی زندگی میں ہی ایسی ایسی چیزوں کو اپنے نام پر کرتے ہیں کہ دیکھ کے حیرت ہوتی ہے، محترمہ بے نظیر نے تو اپنی زندگی میں کچھ نہیں کہا، وہ ایک عظیم لیڈر تھیں، پی ٹی آئی پرو مودی چینلز پر جا کر پاکستان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں، ہمارے تو انہی عدالتوں نے بد ترین فیصلے سنائے۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار بھٹو کو فیئر ٹرائل نہیں ملا، مگر اسکے باوجود ہم نے کوئی عمارت نہیں جلائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری چیئر علی زاہد آغا رفیع اللہ پینل آف چیئر قومی اسمبلی پیپلز پارٹی وقفہ سوالات کر رہے ہیں ایوان میں اراکین نے نے کہا کہ پی ٹی آئی تبدیل ہو کے دوران کرنے کی تھا کہ کا نام

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کردیا گیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن