کورم برقرار رکھنے کے باوجود اسپیکر کے رویے پر افسوس ہے، رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری نے قومی اسمبلی میں کورم کی گنتی پر حکومت کے روپے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہماری پارٹی کے اراکین کی حاضری مکمل رہی اور ہم ہمیشہ اسمبلی کے اجلاس کو اہمیت دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یقین ہے کہ جمہوریت میں پارلیمان سب سے اعلیٰ ادارہ ہے اور ہم ہر ممکن طریقے سے عوامی مسائل کو اسمبلی کے فلور پر لاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
شازیہ مری نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے پہلے دن سے اسمبلی میں عوام کی بات نہیں کی بلکہ صرف بانی پی ٹی آئی کی بات کو اہمیت دی۔
انہوں نے حکومت کے رویے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کورم موجود ہونے کے باوجود اسپیکر کے رویے پر افسوس ہے۔
شازیہ مری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جو اسمبلی میں کورم قائم رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں:
تاہم پی ٹی آئی نے پھر کورم کی گنتی کے حوالے سے شرارت کرتے ہوئے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا۔
ان کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کوئی مک مکا ہوا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی نے دوبارہ کورم کی گنتی کا مطالبہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پارلیمنٹ ہاؤس پی ٹی آئی شازیہ مری کورم مک مکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس پی ٹی ا ئی شازیہ مری کورم مک مکا شازیہ مری پی ٹی آئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔