کینیڈا نے ایک تیز رفتار امیگریشن راستہ متعارف کرایا ہے جو پہلے سے ملک میں کام کرنے والے بین الاقوامی ڈاکٹروں کو برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے کیونکہ ملک صحت کے نظام میں شدید کمیوں سے نمٹ رہا ہے۔

ایمیگریشن کی وزیر لینا میٹلیج ڈیاب نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی ڈاکٹروں کے لیے ایک نیا ایکسپریس انٹری زمرہ بنایا جائے گا جس میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کے پاس حالیہ کینیڈین کام کا کم از کم ایک سال کا تجربہ ہونا ضروری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: تیسری دنیا کے شہریوں کی امریکی امیگریشن پر پابندی: پاکستانی کس حد تک متاثر ہوں گے؟

ایکسپریس انٹری کینیڈا کا پوائنٹس پر مبنی نظام ہے جو مہارت یافتہ کارکنوں کو مستقل رہائش کے لیے منتخب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نئے زمرے کے تحت دعوت نامے 2026 کے اوائل میں جاری ہوں گے۔

اس کے علاوہ وفاقی حکومت صوبوں اور خطوں کے لیے 5,000 مخصوص داخلہ کی جگہیں مختص کرے گی تاکہ وہ لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کو ملازمت کی پیشکش کے ساتھ نامزد کر سکیں۔ ان ڈاکٹروں کو 14 روز میں ورک پرمٹ جاری کیا جائے گا تاکہ وہ مستقل رہائش کے انتظار کے دوران بھی اپنی خدمات جاری رکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی: غیر ملکی طلبہ میں کمی، ماہرین کے لیے خصوصی طریقہ کار متعارف

یہ اقدام کینیڈا کی حکومت کی جانب سے بجٹ 2025 میں شناخت شدہ لیبر کی کمی کو پورا کرنے اور صحت کے نظام کو مستحکم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے جس میں گزشتہ سال تقریباً ہر چھٹے بالغ نے بتایا کہ ان کے پاس باقاعدہ ہیلتھ کیئر فراہم کنندہ نہیں ہے۔ اہل پیشوں میں فیملی فزیشنز، جنرل پریکٹیشنرز اور طبی و جراحی ماہرین شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امیگریشن ڈاکٹر غیر ملکی ڈاکٹر کینیڈا کینیڈا امیگریشن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امیگریشن ڈاکٹر غیر ملکی ڈاکٹر کینیڈا کینیڈا امیگریشن غیر ملکی کے لیے

پڑھیں:

سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت

ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔

سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔

سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔

سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا