’عمران خان اور بشریٰ بی بی پر غیر انسانی کارروائیوں کا سامنا ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر اپنے سخت موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا تو انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہی ہے، لیکن پاکستان میں یہ دن ایسے وقت آیا ہے جب موجودہ حکومت کے ساڑھے 3 سالہ دور میں انسانی حقوق کی پامالی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ پارٹی کے مطابق آئین میں درج بنیادی حقوق کو دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیپی ٹی آئی کے مطابق پاکستان کا آئین شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتا ہے، مگر موجودہ دورِ حکومت میں بنیادی انسانی حقوق کو منظم طریقے سے پامال کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ صورتحال آئینی روح کے منافی ہے۔
عمران خان اور قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا الزامتحریک انصاف نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کو تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی تک کو ’غیر انسانی کارروائیوں‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
پارٹی کے مطابق شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید سمیت متعدد قومی و صوبائی اسمبلی اراکین اور کارکنوں کو جھوٹے مقدمات اور سزاؤں سے گزرنا پڑا۔
خواتین رہنماؤں کے ساتھ ناروا سلوک کا الزامبیان میں مزید کہا گیا کہ خواتین رہنماؤں، جن میں کنول شوزب، صنم جاوید، عائشہ بھٹہ، خدیجہ شاہ، فلک جاوید اور دیگر شامل ہیں، کو جن مقدمات اور طرزِ سلوک کا سامنا کرنا پڑا، وہ انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی سنگین خلاف ورزیوں کے زمرے میں آتا ہے۔
آئینی ترامیم اور عدلیہ پر دباؤپی ٹی آئی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو پارلیمانی نظام اور عوامی نمائندگی پر حملہ قرار دیا۔
مزید کہا گیا کہ اس کے بعد عدالتوں کو کمزور کرنے، عدالتی نظام کو دباؤ میں لانے اور انصاف کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کی گئیں، حالانکہ عدالتیں انسانی حقوق کی آخری محافظ ہوتی ہیں۔
میڈیا پر پابندیاں اور سنسرشپبیان میں الزام لگایا گیا کہ حکومت نے میڈیا پر دباؤ بڑھایا، پروگرام بند کیے، مخصوص افراد کو نمایاں کیا، رپورٹنگ پر پابندیاں لگائیں اور عمران خان کو تین سال تک غیر اعلانیہ طور پر مکمل پابندی کا سامنا رہا۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان اور بہنوں کا متنازع بیان، پاکستان تحریک انصاف نے لاتعلقی کا اظہار کردیا
پی ٹی آئی نے کہا کہ عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزادی اور انسانی حقوق کے اشاریے مسلسل نیچے گئے۔
حکومت کو تنبیہ: انسانی حقوق رعایت نہیں، بنیادی حق ہیںپی ٹی آئی نے کہا کہ انسانی حقوق کوئی حکومتی رعایت نہیں بلکہ آئینی اور فطری حقوق ہیں جو کسی طاقت کے ذریعے چھینے نہیں جا سکتے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عوام کی آواز نہ پہلے دب سکی تھی نہ اب دب رہی ہے، اور ظلم دیرپا نہیں ہوتا۔
تحریک انصاف نے کہا کہ وہ کارکنان، رہنماؤں، خواتین، نوجوانوں، صحافیوں اور ہر اس شہری کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی جس کے حقوق پامال کیے گئے۔
پارٹی کے مطابق یہ جدوجہد کسی فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کے وقار اور آزادی کی جنگ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی عالمی یوم انسانی حقوق عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی عالمی یوم انسانی حقوق تحریک انصاف نے کہا گیا کہ پی ٹی آئی کا سامنا کے مطابق
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔