50 فیصد ٹیرف کی وجہ روسی تیل نہیں مودی کی ہٹ دھرمی بنی، سابق گورنر اسٹیٹ آف انڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
سابق گورنر اسٹیٹ بینک آف انڈیا راگھو رام راجن نے کہا ہے کہ امریکا نے بھارت پر 50 فیصد ٹیریف روسی تیل کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق مؤقف کی تائید نہ کرنے پر عائد کیا۔
ان کے مطابق پاکستان نے ٹرمپ کے بیانیے کا ساتھ دیا جس کے بدلے اسے صرف 19 فیصد ٹیریف کا سامنا کرنا پڑا۔
زیورخ یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب میں راگھو رام راجن نے کہا کہ مئی میں پہلگام حملے کے بعد ہونے والی جھڑپوں کے دوران ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سیزفائر کا کریڈٹ لیا، جسے بھارت نے تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ شخصیات اور سفارتی ردِعمل سے جڑا تھا، روسی تیل سے نہیں۔
Economist Raghuram Rajan remarks won’t sit well with PM Modi -2047, developed India claim.
At 6–7% growth, double digits could be 15–30 years away & claim seems correct as in last 12yrs of this govt, not a single quarter has ever hit double-digit growth.
So another fake dream? pic.twitter.com/QNRZBABeHj
— Manu???????????????? (@mshahi0024) December 8, 2025
راجن کے بیان پر سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا۔ صارفین نے الزام لگایا کہ وہ ’حقائق کو مسخ‘ کر رہے ہیں اور بھارت کے مؤقف کو کمزور ظاہر کر رہے ہیں۔
کچھ صارفین نے کہا کہ بھارت نے جھوٹا بیانیہ تسلیم نہ کر کے قومی مفاد کو ترجیح دی، اسی لیے اسے بلند ٹیکس کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پاکستان نے ٹرمپ کی تعریف کر کے فائدہ اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ-مودی 35 منٹ کی کال جس نے بھارت امریکا تعلقات میں دراڑ ڈال دی
بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ 10 مئی کا سیزفائر پاکستانی ڈی جی ایم او کے بھارتی ہم منصب سے رابطے کے بعد طے پایا، جب کہ ٹرمپ نے اسے اپنی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا۔ بعد ازاں پاکستان نے ٹرمپ کو 2026 کے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک آف انڈیا امریکی ٹیرف راگھو رام راجن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف راگھو رام راجن نے کہا
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز