بھارت کی جن ریاستوں میں بھی انڈیگو طیارہ کی خدمات ہیں، وہاں ایئرپورٹس پر ایک ہنگامی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی تشویشناک ویڈیوز اور تصویریں سامنے آئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں ایئر لائنز "انڈیگو" بحران کے درمیان کئی مسافروں کی درد بھری کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ کوئی اپنے والد کی آخری رسومات میں نہیں جا سکا تو کوئی اپنے ولیمہ کے لئے مقرر جگہ پر نہیں پہنچ پایا، کسی کی بزنس میٹنگ چھوٹ گئی تو کسی کا سامان اُس تک نہیں پہنچ سکا۔ بھارت کی جن ریاستوں میں بھی انڈیگو طیارہ کی خدمات ہیں، وہاں ایئرپورٹس پر ایک ہنگامی حالت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز اور تصویریں سامنے آئی ہیں، جس میں لوگ روتے اور سسکتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس طرح کے معاملوں پر اپوزیشن پارٹی کانگریس نے فکر کا اظہار کیا ہے اور مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

کانگریس نے اپنے ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ایک شخص بتاتا ہے کہ وہ گزشتہ 3 دنوں سے بغیر کھائے پیے وقت گزار رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "میں 3 دنوں سے بغیر کھائے پیے اور بغیر سوئے پریشان ہو رہا ہوں۔ میری فیملی بنگلورو میں پھنسی تھی۔ انڈیگو والوں نے انہیں بھیج دیا، لیکن بیگ بنگلورو میں ہی چھوڑ دیا۔ اسی میں گھر کی چابی، پاسپورٹ اور کاغذات ہیں"۔ ویڈیو میں وہ انڈیگو کے ملازمین پر ناراض دکھائی دے رہا ہے اور وہاں پر کئی دیگر مسافر بھی ہیں جو مختلف مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں ہے کہ اس کی پریشانی کا حل کون نکالے گا۔ ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کانگریس نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ مودی حکومت کی ناکامی ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

انڈیگو ایئر لائن مسافروں کو امید دلا رہی ہے کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے، اور حکومت بھی ضرور قدم اٹھانے کا یقین دلا رہی ہے، لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ایک خاتون مسافر نے اپنا درد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چنئی جانے کے لیے نکلی، لیکن گھر پہنچنے کا انتظام اب تک نہیں ہو پایا ہے۔ اس کے بچے انتظار کر رہے ہیں، لیکن خاتون گجرات کے احمد آباد ایئرپورٹ پر پھنسی ہوئی ہے۔ خاتون نے بتایا کہ اس کے بچے بار بار اس سے پوچھ رہے ہیں کہ وہ کب پہنچے گی، لیکن سچ تو یہ ہے کہ انڈیگو ایئر لائن کوئی جانکاری دے ہی نہیں رہا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں سے زائد وقت سے ایئرپورٹ پر اِدھر اُدھر کے چکر کاٹ رہی ہے۔ دوسری ایئر لائنز میں کرایہ 50 ہزار تک پہنچ گیا ہے، جو وہ ادا نہیں کر سکتی۔

راجستھان کی ایک فیملی بھی ایئرپورٹ پر پھنسی ہوئی ہے۔ اس فیملی کا ایک رکن کینسر کا مریض ہے، جو صرف لیکوئڈ ہی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ مریض بھی ایئرپورٹ پر لائن میں کھڑے رہنے کو مجبور ہے۔ اس نے بتایا کہ انڈیگو سے انھیں کوئی مدد نہیں مل رہی۔ مقامی ایئرپورٹ اسٹاف نے ان کے کھانے کا انتظام کیا ہے، لیکن ابھی تک فلائٹ کا انتظام نہیں ہو پایا ہے۔ اسی طرح 2 افراد کوچی جانے کے لئے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز کی فلائٹ کینسل ہونے کے بعد آج دوپہر ایک بجے کی فلائٹ ری شیڈیول ہوئی، لیکن ایئرپورٹ پہنچنے پر پتہ چلا کہ فلائٹ کینسل ہو چکی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ انڈیگو نے اب انہیں پیر کی دوپہر کی فلائٹ ری شیڈیول کر دی ہے اور کہا ہے کہ ایئرپورٹ پر آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ فلائٹ ٹیک آف ہوگی یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایئرپورٹ پر مودی حکومت بتایا کہ رہے ہیں رہی ہے ہے اور رہا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار