بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری ایک بار پھر بحران کا شکار ہے، اور انڈیگو کے حالیہ مسائل نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ 1991 کی لبرلائزیشن کے بعد آخر کیوں بھارت دنیا کا سب سے بڑا ایئرلائنز قبرستان بن گیا۔ گزشتہ تین دہائیوں میں کم از کم دو درجن نجی ایئرلائنز دیوالیہ، مقروض یا بند ہو کر تاریخ کا حصہ بن گئیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری میں ایک پرانا مذاق مشہور ہے’ اگر آپ کو چھوٹی دولت کمانی ہے تو بڑی دولت سے ایئرلائن شروع کریں۔‘ یہ جملہ بھارتی فضاؤں کی حقیقت بیان کرتا ہے، جہاں 1991 میں نجی شعبے کو اجازت ملنے کے بعد سے اب تک درجنوں ایئرلائنز ختم ہو چکی ہیں۔

ایسٹ ویسٹ ایئرلائن لبرلائزیشن کے بعد سب سے پہلی نجی ایئرلائن تھی، لیکن کم کرایوں کی جنگ، بھاری قرض اور فنڈز کے بحران نے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ 1995 میں کیرالا سے تعلق رکھنے والے کمپنی کے مالک تقی الدین واحد قتل ہوئے ، اور 1996 تک ایئرلائن مکمل طور پر بند ہو گئی۔ ڈمانیا ایئر ویز نے پریمیم مختصر رُوٹ متعارف کرائے لیکن کم کرایوں کی وجہ سے اخراجات پورے نہیں ہو سکے اور کمپنی 1997 میں بند ہو گئی۔

موڈی لفٹ لفتھانزا کے ساتھ جوائنٹ وینچر تھا، لیکن تنازعات کے باعث 1996 میں لفتھانزا نے طیارے واپس لے لیے، اور ایئرلائن فوراً بند ہو گئی۔ ایئر سہارا چند سال بڑے پیمانے پر چلی لیکن 1997–98 کے مالی بحران نے اسے ڈگمگا دیا، جس کے بعد وہ پہلے جزوی اور پھر مکمل طور پر جیٹ ایئرویز کو بیچ دی گئی۔

1953 کے ایئر کارپوریشن ایکٹ کے تحت دہائیوں تک صرف دو سرکاری کمپنیاں—ایئر انڈیا اور انڈین ایئرلائنز—کو اجارہ داری حاصل تھی۔ 1991 میں معاشی اصلاحات کے بعد پہلی بار نجی کمپنیوں کو پروازیں چلانے کی اجازت ملی۔

ایسٹ ویسٹ، جیٹ ایئر ویز، ڈمانیا، موڈی لفٹ اور این ای پی سی جیسے نام منظرِ عام پر آئے۔ یہ کمپنیاں جدید خدمات، کم کرایوں اور بہتر وقت کی پابندی کا دعویٰ کرتی تھیں، لیکن زیادہ تر چند ہی سالوں میں ختم ہو گئیں۔

2000 کی دہائی: کم لاگت ایئرلائنز کا زمانہ
ایئر ڈکن نے 2003 میں سستے سفر کا آغاز کیا اور فضائی سفر کو عام آدمی تک پہنچایا۔ لیکن کم منافع، بلند اخراجات اور تیز مقابلے نے اسے بھی جلد ختم کر دیا۔ کنگ فشر ایئرلائن عیاشی اور بھاری اخراجات کے بوجھ تلے دبی اور 2012 میں 8 ہزار کروڑ روپے کے قرض کے ساتھ بند ہوئی۔ علاقائی ایئرلائنز, ایئر کوسٹا، پیگاسس، اڑیسہ اور دیگر ایئر لائنز بھی چند سال سے زیادہ نہ چل سکیں۔

جیٹ ایر ویز جو کبھی بھارت کی سب سے مضبوط نجی ایئرلائن سمجھی جاتی تھی، 2019 میں دیوالیہ ہو گئی۔ گوفرسٹ نے 2023 میں بینک کرپسی کا اعلان کر دیا، انجن مسائل نے اس کی بیڑہ غرق کر دیا۔

ماہرین کے مطابق بھارتی ایوی ایشن میں بنیادی ڈھانچہ ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔ایوی ایشن ٹربائن فیول آپریشنل اخراجات کا 40 سے 45 فیصد بنتا ہے، جو دنیا بھر سے زیادہ ہے۔

ڈالر مہنگا ہونے سے لیز، مرمت اور فیول کی لاگت بڑھ جاتی ہے، کمپنیاں زیادہ تر لیز پر چلتی ہیں، اور کیش فلو رکنے پر لیز دینے والے طیارے واپس لے لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ صنعت کا مالی ڈھانچہ کمزور ہو جاتا ہے اور ایئرلائنز ایک کے بعد ایک ختم ہوتی جاتی ہیں۔

انڈیگو اس دور میں اپنی سخت نظم و ضبط، واحد طیارہ بیڑے اور کم قرض کی پالیسی کے باعث کامیاب رہا، مگر اب ایف ڈی ٹی ایل قوانین اس کے آپریشن پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ایئر انڈیا ٹاٹا گروپ کے تحت نئے بیڑے اور سرمایہ کاری کے ساتھ ازسرنو ابھرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ اسپائس جیٹ شدید مالی مسائل کے باوجود کام جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اکاسا ایئر نئی امید کے طور پر ابھر رہی ہے۔

لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بھارت کی فضائیں مسلسل نئی ایئرلائنز کو جنم بھی دیتی ہیں ، نگل بھی لیتی ہیں اور جو سبق نہ سیکھے، وہ اسی قبرستان کا حصہ بن جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایوی ایشن بھارت کی کر دیا کے بعد بند ہو ہو گئی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود