WE News:
2026-07-24@03:03:06 GMT

توہم پرست قیادت

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر جذباتی نعروں، جھوٹے وعدوں یا وقتی مقبولیت سے نہیں بدلتی۔ قومیں تب اُبھرتی ہیں جب وہ عقل، اخلاق، علم اور تربیت کے راستے پر چلتی ہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے مشہور برطانوی فلاسفر’انتھونی کلیفوڑ گریلنگ‘ اپنی کتاب (The Meaning of Things) میں بار بار دہراتے ہیں کہ انسان کی اصل عظمت اس کے علم و استدلال اور اخلاقی بصیرت میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اُن چرب زبانی کرنے والے حکمرانوں میں جنہیں جھوٹی دیانت اور مصنوعی عظمت کا خول پہنا کر عوام کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔

فکری غلامی، توہمات، جادو، اور غیر مرئی سہاروں کا تصور انسان کو اس کی ذہنی آزادی سے محروم کر دیتا ہے۔ گریلنگ لکھتے ہیں:’جب انسان دلیل کی روشنی چھوڑ دیتا ہے، وہ غیر مرئی سہاروں کے اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے اور قومیں اس وقت پستی کا شکار ہوتی ہیں جب فیصلے عقل اور ثبوت کے بغیر کیے جائیں۔‘

جذباتیت، نفرت، شدت پسندی اور مذہبی جنون نے پہلے ہی معاشرے کو کھوکھلا کر دیا تھا؛ اس پر مستزاد یہ کہ توہم پرستی اور غیر مرئی طاقتوں پر بھروسے نے ہمیں اُن تہذیبوں سے بھی نیچے گرا دیا جن کی بنیادیں بت پرستی پر قائم تھیں۔

دی اکانومسٹ کی حالیہ رپورٹ میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق بعض روحانی اثرات اور ماورائی مداخلتوں کے الزامات زیرِ بحث آئے۔ ان دعوؤں کی صحت سے قطع نظر، اصل مسئلہ کچھ اور ہے، ’کیا ہماری سیاست دلیل کے مینار پر کھڑی ہے یا اَن دیکھے سائے اور توہمات اس کے ستون ہیں؟۔‘ یہ سوال محض شخصیات کا نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی سیاسی ذہن کا آئینہ ہے۔

گریلنگ کے مطابق ’توہم پرستی انسان کی وہ لغزش ہے جس میں انسان اپنے خوف، خواہش اور اضطراب کو ’حقیقت‘ سمجھنے لگتا ہے۔ جادو ٹونا، عملیات، غیبی اشارے، خواب اور دعائیں وغیرہ، یہ سب وہ ذہنی پناہ گاہیں ہیں جہاں پر قوم اپنی ذمہ داریوں کے بوجھ سے بھاگ کر آرام تلاش کرتی ہے۔

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ قومیں کبھی ان پناہ گاہوں میں زندہ نہیں رہ سکتیں اور اگر کوئی قوم ایسا کرے گی تو پاتال کی گہرائیوں میں گر کر اپنا نام و نشان مٹا دے گی۔ جب کسی ملک کی سیاست غیر مرئی تصورات کے سہارے چلنے لگے تو فیصلے انسانوں کی بنیادی ضروریات، اور میرٹ کے بجائے خوابوں اور خوفوں سے تشکیل پاتے ہیں۔گریلنگ کے نزدیک یہ محض غیر سائنسی روش نہیں، بلکہ ایک اخلاقی اور سماجی کمزوری کی علامت ہے۔

پاکستانی سیاست کا ایک دیرینہ زخم شخصیت پرستی ہے، اور یہ وہ گورکن ہے جو سوال کی قبر کھود کر اسے زندہ دفن کر دیتا ہے، پھرافراد نظریات اور اصولوں سے بڑے ہو جاتے ہیں، اور ایک وقت آتا ہے جب جاہل عقیدت مندوں کا جمِ غفیر کسی نااہل انسان کو کندھوں پر بٹھا کر اُسے بُت بنا دیتا ہے۔ایک ایسا بت جس کے گرد رسومات ادا ہوتی ہیں اور جس پر تنقید ’گستاخی‘ سمجھی جاتی ہے۔

گریلنگ اسی کیفیت کے متعلق خبردار کرتے ہیں: ’جب کوئی فرد اصولوں سے بڑا ہو جائے تو قومیں اپنی سوچ گروی رکھ کر محض بت کی پیروی میں زندگی گزارنے لگتی ہیں اور چوہوں کی طرح اندھیری سرنگ میں سانسیں لے کر خوش ہوتی ہیں۔‘ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب آزادی آخری سانس لیتی ہے، کیونکہ جہاں رہنما پر تنقید جرم بن جائے وہاں شعور کا چراغ بجھ جاتا ہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ ہر 5 سال بعد ووٹ ڈالنا اور گنتی کرنا جمہوریت ہے، حالانکہ جمہوریت کا اصل مقصد سوال اٹھانے کی آزادی ہے۔ مگر ہماری قوم سوال کرنے کے بجائے رہنماؤں کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھنے لگتی ہے اور جماعتیں نظریاتی تنظیموں سے ہٹ کر فرقوں میں بدل جاتی ہیں۔ ’ہم سچے، باقی سب باطل‘ کا نعرہ جمہوریت کے دروازے کو اندر سے بند کردیتا ہے۔

دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں جو بھی الزامات سامنے آئے، چاہے وہ روحانی رہنمائی سے متعلق ہوں، جادو ٹونے، عملیات یا غیبی اشاروں سے۔ ریاست کا ہر فیصلہ انسانی جانوں، معیشت اور اجتماعی مستقبل کو بدلتا ہے اور یہ وہ سوال ہے جو آج بھی اپنی جگہ کھڑا ہمارا منہ چڑا رہا ہے: ’کیا ہم ایسی ریاست کو قبول کر سکتے ہیں، جہاں سیاسی فیصلے عمل، عقل، دانش، لیاقت اور ثبوتوں کے بجائے توہمات، قرعہ اندازیوں اور جنات کے سہارے نکلیں؟۔‘

ماضی کے یہی وہ فیصلے تھے جو ماورائی ترجیحات اور غیبی خواہشات کو مدنظر رکھے کر کیے گئے اور یہ اخلاقی جرم بن کر اب سامنے آ رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی اپنی ذمہ داری دلیل کے بجائے کسی غیبی سہارے کو سونپ رکھی تھی۔

گریلنگ کا قول یہاں پر ہماری رہنمائی کرتا ہے: ’انسان جب اپنی عقل سے دستبردار ہوتا ہے، تو وہ اپنی آزادی سے بھی دستبردار ہوچکا ہوتا ہے۔‘ اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے: کیا ہم وہ قوم بننا چاہتے ہیں جس کا رہبر عقل ہو؟ یا وہ قوم جو جذبات، خوف، خواب، نفرت اور توہمات کے سائے میں بھٹکتی رہے؟
ہمارا مستقبل اس دن روشن ہوگا جب ہم بڑی سے بڑی سوکالڈ مذہبی، سماجی، سیاسی و عسکری شخصیت کو اصولوں کے تابع کر دیں گے۔ سوال کو جرم نہیں اپنا حق سمجھیں گے۔ سیاست کو مذہب اور روحانی سہاروں سے جدا کرکے فیصلوں کو علم و شواہد کے حوالے کر دیں گے۔ تبھی ہم اس دنیا میں سر اٹھا کر جی سکیں گے۔

آج بھی ہمارے ہاتھ میں عقل و شعور کا وہ چراغ موجود ہے جسے گریلنگ انسانی وقار کا درجہ دیتا ہے، مگر شرط صرف یہ ہے کہ ہم اس چراغ کو اپنی ہتھیلی پر اٹھائیں، اسے بجھنے نہ دیں، اور اس کی روشنی میں ہر فیصلے کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش کریں۔

پاکستان نہ توہمات کی بستی ہے، اور نہ ہی الف لیلوی داستان ہے، بلکہ یہ 25 کروڑ زندہ انسانوں کا وطن ہے۔ہمارے وطن کی تقدیر دلیل سے بدلے گی، نہ کسی غیر مرئی سہاروں سے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مشکور علی

The Meaning of Things انتھونی کلیفوڑ گریلنگ بشریٰ بی بی بنی گالا جادو تونا دی اکنامسٹ روحانی علوم عباس سیال عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنی گالا جادو تونا دی اکنامسٹ روحانی علوم عباس سیال کے بجائے دیتا ہے اور یہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف