ایمان مزاری متنازعہ ٹویٹ کیس شوہر کی بریت کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹ کیس میں ہادی علی چٹھہ کی بریت کی درخواست خارج کر دی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چھٹہ کی بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے احکامات جاری کیے۔ کیس آخری مرحلے میں داخلہ ہوچکا ہے اور سٹیٹ کونسل کی جانب سے استغاثہ کے تمام گواہان پر جرح مکمل کی گئی۔ عدالت نے سٹیٹ کونسل کو 342 کا سوال نامہ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی اور جج افضل مجوکہ نے سٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں اور آپ جواب جمع کروا دیں، اگر ملزمان جواب نہ دیں تو آپ کو جواب دینا ہے۔ عدالت کی پراسکیوشن کو 4 دسمبر کو 342 کا سوال نامہ جمع کروانے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔