اسرائیل، رفح بحران کے حل کیلئے ثالثوں کو جواب نہیں دے رہا، حماس
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع سرنگوں میں حماس کے مزاحمتکار اسرائیل سے مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے باہر اور کمانڈ سنٹر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان "حازم قاسم" نے اسرائیل پر تنقید کی کہ وہ جنوبی غزہ کے مزاحمتی کارکنوں کے معاملے میں تعاون نہیں کرنے رہا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا اسرائیل نے رفح میں پیدا کردہ بحران کو حل کرنے کے لئے ثالثوں کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا۔ حازم قاسم نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم کو رفح میں استقامت کاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی کوئی تصویر بھی نہیں ملے گی۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری ڈکشنری میں ہتھیار ڈالنا یا خود کو غاصب رژیم کے حوالے کرنا نہیں ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع سرنگوں میں حماس کے مزاحمت کار اسرائیل سے مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے باہر اور کمانڈ سنٹر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس لئے ان تک استقامتی محاذ کے تازہ ترین آرڈر نہیں پہنچ رہے۔ دوسری جانب چونکہ یہ علاقے جنگ بندی کے معاہدے (زرد خطے) سے باہر واقع ہیں، اس لیے صیہونی رژیم نے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود مجاہدین کے خلاف فضائی اور زمینی حملے بند نہیں کئے۔ رفح میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث صیہونی فوجیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی بات کو جواز بنا کر اسرائیل، غزہ کے خلاف جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین