حزب اللہ کے نائب سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ہفتے بیروت میں گروپ کے سینیئر فوجی کمانڈر ہیثم علی طباطبائی کی ہلاکت ’واضح جارحیت اور سنگین جرم‘ ہے، اور تنظیم اس کا جواب دینے کا حق رکھتی ہے۔

الجزیرہ کے مطابق کو ٹی وی پر اپنے خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ حزب اللہ ’جوابی کارروائی کے وقت کا تعین خود کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی ہونے یا نہ ہونے، دونوں امکانات موجود ہیں، اس لیے لبنان کو چاہیے کہ وہ ’اپنی فوج اور اپنے عوام‘ پر مشتمل ایک قومی دفاعی حکمتِ عملی تیار کرے۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کا بیروت میں فضائی حملہ، حزب اللہ کا اہم فوجی کمانڈر علی طباطبائی جاں بحق

قاسم نے امید ظاہر کی کہ پوپ لیو کی جلد متوقع لبنان آمد ’خطے میں امن اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے‘ میں معاون ثابت ہوگی۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کی ہے، لیکن اسرائیل مسلسل لبنان کے جنوبی علاقوں اور وقتاً فوقتاً بیروت کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے طباطبائی کی ہلاکت سے قبل بیروت پر کئی ماہ بعد دوبارہ حملہ کیا گیا۔

قاسم کا کہنا تھا کہ طباطبائی اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ’آئندہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی‘ کر رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دے دی

اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائی ادرعی نے قاسم کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اسلحے کے خاتمے کے لیے لبنانی فوج کی کوششیں ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق حزب اللہ خفیہ طور پر اپنی عسکری صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

تاہم حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے ہتھیار اس وقت تک نہیں چھوڑ سکتی جب تک اسرائیل لبنان کی حدود پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوبی لبنان میں اپنے پانچ فوجی مقامات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حزب اللہ کا

پڑھیں:

ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای

تہران:

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سرکاری ٹی وی پر اہم خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ اور لبنان کی مزاحمتی تحریکیں دراصل ایرانی تحریک کی اقدار اور اصولوں پر قائم ہیں، جنہوں نے خطّے میں ظلم کے خلاف مضبوط محاذ بنایا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے حالیہ بارہ روزہ جنگ میں امریکا اور صیہونی رژیم کو واضح اور تاریخی شکست دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن پوری تیاری کے ساتھ آیا شر پھیلایا لیکن آخرکار شکست کھا کر خالی ہاتھ واپس لوٹ گیا۔

سپریم لیڈر نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت نے اس جنگ کے لیے بیس سال تک منصوبہ بندی کی تھی، لیکن ایرانی دفاعی نظام اور قومی مزاحمت کے سامنے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کے دوران بھرپور کوشش کی لیکن انہیں اپنے اہداف میں ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور علاقائی مزاحمتی قوتیں ایرانی نظریے سے تقویت پا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل سے اپنے شہید کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت کا بدلہ لیں گے، شیخ نعیم قاسم
  • اسرائیل سے اپنے شہید کمانڈر علی طباطبائی کی شہادت کا بدلہ لیں گے؛ سربراہ حزب اللہ
  • شام کے وزیر خارجہ  کا اسرائیل کے حملوں کے خلاف عالمی ردعمل کا مطالبہ
  • شام کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا پورا حق ہے، یمن
  • شهید ھیثم علی طباطبائی نے 9 سال تک اپنے یمنی بھائیوں کو عسکری تربیت دی، شیخ نعیم قاسم
  • لبنانی فوج نے حزب‌ الله کیخلاف اسرائیلی دعوے کو مسترد کردیا
  • ایران نے 12 روزہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل کو شکست دی، آیت اللہ خامنہ ای
  • لبنان میں اسرائیلی حملے، اقوامِ متحدہ کا شدید ردعمل: فوری تحقیقات کا مطالبہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے: اقوام متحدہ کا سخت ردعمل، فوری تحقیقات کا مطالبہ