بانی پی ٹی آئی جیلسے حکومت مخالف تحریک چلانا چاہتے ہیں: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) مشیر رانا ثناء اللہ نے سماء نیوز کے پروگرام ’’ میرے سوال‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو گھیراؤ کیا،وزیراعلیٰ مسلح جتھہ لے کر حملہ آور ہوئے، بانی پی ٹی آئی لانگ مارچ اور ہنگامہ آرائی کا کہتے ہیں،
راناثنااللہ نے کہا کہ ٹویٹس میں اداروں اور حکومت پر تنقید کی جاتی ہے، پی ٹی آئی 26 نومبر کو دوبارہ ہنگامہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، افراتفری کیلئے نئے وزیراعلیٰ کے پی کو لایاگیا، وزیراعلیٰ نے اعلان کیا وہ عشق بانی پی ٹی آئی میں مارے جائیں گے، ملاقاتوں کے ذریعے جو ہو رہا تھا اس سلسلے کو بند کیا گیا ہے، حل بات چیت اور مذاکرات سے ہی ہوتا ہے، بانی پی ٹی آئی4سال وزیراعظم رہے،اس وقت بھی بات چیت نہیں کی، بانی پی ٹی آئی اب بھی مخالفین سےبات چیت کے حق میں نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ جیل حکام نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی کی صحت ٹھیک ہے اور تمام سہولیات میسرہیں، جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر کرپشن کاکوئی اسکینڈل نہیں، انکم ٹیکس،ایف بی آر،پولیس سمیت دیگراداروں میں کرپشن شروع سے ہے، 2سال پہلے ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا،امپورٹ بل کیلئے ڈالرز نہیں تھے، پاکستان بہتری کی طرف آیا ہے،مزید بہتری کےامکانات ہیں، آئی ایم ایف بھی بہتری کا اعتراف کرتا ہے، حکومت کی پی آئی اےکی نجکاری پر توجہ ہے، وزیراعظم بہت محنت کررہےہیں، پاکستان معاشی مشکلات سے سرخرو ہوکر نکلے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔