بانی پی ٹی آئی جیل سے ہی حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے خواہاں ہیں: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت کو بانی پاکستان تحریک انصاف سے کوئی خوف نہیں، تاہم جیل میں ملاقات اور اس کے بعد سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے قانون کی پابندی لازم ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہئے، مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ طویل ملاقاتوں کے بعد گھنٹوں پر مشتمل پریس کانفرنسیں نہ کی جائیں اور نہ ہی جلاؤ گھیراؤ یا اسلام آباد کی جانب مارچ جیسے بیانات دیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص جیل میں بیٹھ کر باہر تحریک چلائے۔ ملاقات کا مقصد سیاسی شور مچانا نہیں ہونا چاہئے، عدالت نے ملاقات کی اجازت دیتے ہوئے دو نکات واضح کیے تھے: ملاقات ہوسکتی ہے مگر اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت عوام کو بتائے گی کہ مذاکرات کے لیے ہر راستہ اختیار کیا گیا، لیکن بانی پی ٹی آئی نے 26 نومبر کو احتجاج کی کال دی تھی اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال کی طرح ممکنہ احتجاج کی تیاری کی جا رہی تھی۔
انہوں نے نواز شریف کی سابقہ بیرونِ ملک روانگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جیل توڑ کر باہر نہیں گئے تھے، انہیں اس وقت کی کابینہ نے اجازت دی تھی۔‘‘
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بیٹھ کر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں، قانون کے مطابق ملاقات ہونی چاہئے، تاہم سیاسی ماحول کو مزید گرم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اسی تناظر میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی طرزعمل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر اتنی محبت ہے تو مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی کی اجازت نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :