پی ٹی آئی ملک دشمن بیانیہ ترک، ریاستی و عوامی مفاد مقدم رکھے: عطاء تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک دشمن بیانیے اور غلط ترجیحات ترک کر کے ریاست اور عوام کے مفاد کو مقدم رکھے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی اور رویے پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریکِ انصاف، بشمول خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایسا سیاسی طرزِ عمل اپنایا ہے جس میں صوبے کے عوام کو گورننس دینا پسِ پشت چلا گیا ہے اور پوری توجہ ایک ایسے غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے کہ کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ہی سیاسی رہنمائی لی جائے، جو جیل قوانین کے خلاف ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ایک اہم صوبہ ہونے کے باوجود صوبائی حکومت کی ترجیحات امن، ترقی اور عوامی ریلیف کے بجائے اسی غیر قانونی بیانیے کے گرد گھومتی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی کی ایک خاتون سیاستدان نے منفی حکمتِ عملی کے تحت افغانستان سے چلنے والے پاکستان دشمن اکاؤنٹس اور بھارتی میڈیا پر خان صاحب سے متعلق ایک گھٹیا مہم چلائی، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی کرنا تھا۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ طرزِ عمل کھلی پاکستان دشمنی ہے کیونکہ اس سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، اب وقت آگیا ہے کہ تحریکِ انصاف ملک دشمن بیانیہ ترک کر کے ریاست اور عوام کے مفاد کو اولین ترجیح دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
وزیر اعلیٰ نے انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جی بی میں حکومت سازی، خطے کے مسائل اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔