ہانگ کانگ آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 128، 200 افراد اب بھی لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
ہانگ کانگ کے رہائشی علاقے تائی پو میں وانگ فک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں لگی خوفناک آگ نے تباہی مچا دی۔ آگ میں جھلس کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 128 ہو گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ آتشزدگی، 65 ہلاک، 300 لاپتا، 2 مشتبہ افراد گرفتار
حکام کے مطابق عمارتوں میں نصب فائر الارم طویل عرصے سے خراب تھے جس کے باعث آگ مزید تیزی سے پھیلی، آگ بدھ کی دوپہر بھڑکی اور سات بلند رہائشی عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ 15 منٹ کے اندر 3 بلاکس دہکتے شعلوں میں تبدیل ہو گئے۔ فائربریگیڈ کے مطابق آگ 40 گھنٹے بعد جمعے کی صبح مکمل طور پر بجھائی گئی اور 1 ہزار 800 سے زائد فلیٹس کی تلاشی مکمل کرلی گئی۔
سینکڑوں افراد اب بھی لاپتاتقریباً 200 افراد اب بھی لاپتا ہیں جبکہ 89 لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔ لواحقین مختلف اسپتالوں اور شناختی مراکز کے چکر لگا رہے ہیں۔ اسپتالوں کے باہر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے جہاں اہل خانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین کھڑے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:ہانگ کانگ میں ریکارڈ ہلاکت خیز آگ نے بانس اسکیفولڈنگ پر سوالات اٹھادیے
ایک عینی شاہد 77 سالہ شخص نے بتایا کہ آگ اتنی خوفناک تھی کہ پوری عمارت چند منٹوں میں آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ کئی رہائشیوں نے بتایا کہ فائر الارم نہ بجنے کے باعث انہیں خود دروازہ کھٹکھٹا کر پڑوسیوں کو خبردار کرنا پڑا۔
آگ کیسے بھڑکی؟ تحقیقات جاریابتدائی سرکاری تحقیقات کے مطابق آگ ایک ٹاور کے نچلے فلور پر لگی حفاظتی نیٹنگ میں لگی، جہاں فوم بورڈز اور بانسوں کا اسکیفولڈ استعمال کیا گیا تھا۔ انہی مواد کی وجہ سے آگ تیزی سے پورے کمپلیکس میں پھیل گئی۔
فائر سروسز چیف کے مطابق تمام آٹھ بلاکس میں الارم سسٹمز خراب تھے اور اس غفلت کے ذمہ دار ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے تین افراد کو حراست میں بھی لیا ہے جن پر حفاظتی فوم پیکنگ بے احتیاطی سے چھوڑنے کا شبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں رہائشی ٹاورز میں خوفناک آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 55ہوگئی
ہانگ کانگ کے اینٹی کرپشن کمیشن نے بھی مرمتی کام میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ جولائی 2024 سے اب تک اس مرمتی سائٹ کے 16 معائنے کیے گئے، جن میں آخری معائنے کے بعد ٹھیکیدار کو تحریری وارننگ جاری کی گئی تھی۔
امدادی سرگرمیاں اور حکومتی اقداماتحکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر کا خصوصی فنڈ قائم کر دیا ہے۔ شہر بھر میں 9 شیلٹر قائم کیے گئے ہیں جہاں بے گھر افراد کو عارضی رہائش، خوراک اور ضروری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
آنے والے 7 دسمبر کے قانون ساز انتخابات کے حوالے سے سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ ایئرپورٹ پر خوفناک آتشزدگی، فلائٹ آپریشن معطل
دوسری جانب شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی مہم شروع کر رکھی ہے۔ کپڑوں، خوراک، گھریلو اشیا اور ادویات کے اسٹال لگائے گئے ہیں جبکہ نفسیاتی اور طبی معاونت کے لیے بھی خصوصی کیمپ قائم ہیں۔ اتنی زیادہ امداد جمع ہو چکی ہے کہ منتظمین نے مزید اشیا نہ لانے کی اپیل کر دی۔
1948 کے بعد سب سے ہولناک واقعہیہ آگ ہانگ کانگ کی حالیہ تاریخ کی سب سے تباہ کن آتشزدگی قرار دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل 1948 میں ایک آگ اور دھماکے کے واقعے میں کم از کم 135 افراد جان سے گئے تھے۔
حکام کے مطابق آگ کی مکمل وجوہات جاننے میں تین سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں جبکہ شہر بھر کے تمام بڑے مرمتی منصوبوں کی فوری جانچ پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آگ چین رہائشی عمارت ہانگ کانگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین رہائشی عمارت ہانگ کانگ یہ بھی پڑھیں ہانگ کانگ ا تشزدگی کے مطابق
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔
محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔
مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔
روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔
استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔
ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔
حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان