حکمرانوں کی ناقص پالیسیاں ملک کو مسلسل مسائل کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں، علامہ بلال قادری
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، عوام کے مسائل کو اولین ترجیح دیں اور ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات کریں، ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے مرکزی صدر صاحبزادہ علامہ بلال عباس قادری نے کہا ہے کہ عوام کے تمام مسائل کا حل حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہے، لیکن بدقسمتی سے عوامی فلاح و بہبود کو ہمیشہ پسِ پشت ڈال کر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جاتی رہی ہے، ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت اور بنیادی سہولیات کی کمی اس بات کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ حکمران طبقات اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں۔ اپنے ایک بیان میں علامہ بلال عباس قادری نے کہا کہ قوم آج جس معاشی، سماجی اور انتظامی انتشار کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ حکمرانی کا کمزور نظام ہے، جس میں عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا، حکمرانوں کی غیر سنجیدگی، غفلت اور ناقص پالیسیاں ملک کو مسلسل مسائل کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں۔
بلال عباس قادری نے کہا کہ جب تک حکمران عوام کی حقیقی نمائندگی کا ثبوت نہیں دیتے، جب تک وہ عوامی درد محسوس نہیں کرتے اور جب تک وہ انصاف و شفافیت پر مبنی فیصلے نہیں کرتے، تب تک ملک میں حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عوام آج بھی اس امید پر زندہ ہیں کہ کوئی ایسا نظام قائم ہو جو ان کے حقوق کا محافظ ثابت ہو اور ان کے مسائل کا عملی حل فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک ملک و قوم کی بہتری، امن کے قیام، مذہبی رواداری کے فروغ اور عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں، عوام کے مسائل کو اولین ترجیح دیں اور ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کیلئے عملی اقدامات کریں، ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ عوام کے ملک کو
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔