مقبوضہ کشمیر کو دوبارہ بااختیار بنانا ناگزیر ہے، رکن بھارتی پارلیمنٹ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرینگر (صباح نیوز) بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ خصوصی درجہ ختم ہونے کے بعد سے اپنے آپ کو کمزور اور غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، اس لیے سیاسی اور آئینی سطح پر ریاست کو دوبارہ بااختیار بنانا نہایت ضروری ہے۔ سری نگر میں میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے نوگام پولیس اسٹیشن دھماکے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ تشدد کا تعلق آرٹیکل 370 سے ہے۔ انہوں نے جمہوری حقوق کی بحالی اور ریاستوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا ’’آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیری بے اختیار محسوس کر رہے ہیں‘‘ ریاستوں کو جمہوری حقوق کے ذریعے بااختیار بنانے کی شدید ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :