Islam Times:
2026-06-02@23:00:29 GMT

مقبوضہ کشمیر کے بے باک سیاسی رہنماء شیبان عشائی کا خصوصی انٹرویو

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز کیساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس نے ہمیشہ بھارتی ایجنسیوں اور حکومتوں کیساتھ خفیہ روابط جاری رکھے اور کشمیری عوام کو دھوکہ میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری لیڈروں کی فریب کاریوں سے ہی بی جے پی ہم پر مسلط ہوگئی۔ متعلقہ فائیلیںشیبان عشائی کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع سرینگر سے ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے منفرد و بے باک سیاسی موقف و نظریہ رکھتے ہیں۔ شیبان عشائی جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ  ہیں۔ اسلام ٹائمز کے نمائندے نے سرینگر میں ایک نشست کے دوران شیبان عشائی سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جس دوران انہوں نے حریت کانفرنس کے موقف میں تبدیلی اور حریت چھوڑ کر مین سٹریم سیاست میں شمولیت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حریت قائدین کو منافقت ترک کرنی چاہیئے کیونکہ آج تک یہ جس ووٹ کو حرام قرار دیتے تھے، اب انکے بیٹے سیاست میں حصہ لینے لگے تو اب ووٹ ڈالنا حلال ہوگیا، آخر لاکھوں نوجوانوں کو قبرستان میں سلانے کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی پارلیمنٹ میں 25 مسلم ممبران ہیں، لیکن وہ مسلمانوں پر ہونیوالے بی جے پی کے ظلم و تشدد کو روکنے کے حوالے سے باکل بھی سنجیدہ نہیں ہیں۔ شیبان عشائی کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس نے ہمیشہ بھارتی ایجنسیوں اور حکومتوں کیساتھ خفیہ روابط جاری رکھے اور کشمیری عوام کو دھوکہ میں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری لیڈروں کی فریب کاریوں سے ہی بی جے پی ہم پر مسلط ہوگئی۔ شیبان عشائی نے کہا کہ کشمیری قوم کو ایک نیک اور صالح قیادت کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بی جے پی کا  بلڈوزر صرف عوامی نیشنل کانفرنس کے چیئرمین مظفر شاہ اور ہم نے روکا ہے۔ تفصیلی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کشمیر کشمیر کے بی جے پی

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی