مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوجی محاصرے کے 2300 دن مکمل،احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مظفرآباد (صباح نیوز) مقبوضہ جموں کشمیر پر بھارتی فوجی محاصرے کے 2300 دن ہو جانے پر پاسبانِ حریت جموں کشمیر کے زیرِ اہتمام دارالحکومت میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں مہاجرین، نوجوانوں، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ہند مخالف مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کی اپیلیں، بھارتی مظالم کے خلاف نعرے اور حقِ خودارادیت کے مطالبات درج تھے۔ شرکاء نے بھارتی جبرو استبداد کے خلاف سیاہ جھنڈے لہرا کر دنیا کو پیغام دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں 2300 دن سے جاری محاصرہ انسانیت کیخلاف بڑا جرم بن گیا ہے۔احتجاجی مظاہرے سے چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی، وائس چیئرمین عثمان علی ہاشم، ایڈووکیٹ مہتاب حمید، مہاجرین نمائندگان چوہدری فیروز الدین، قاری بلال احمد فاروقی، محمد اسلم انقلابی، مختیار حسین بھٹی، محمد اسحاق شاہین اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔عزیر احمد غزالی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر گزشتہ 2300 دن سے مسلسل فوجی محاصرے، ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا شکار ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اس ظلم کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاسبانِ حریت نے بھارتی فوجی جرائم اور محاصرے کے خلاف ایک تفصیلی مراسلہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو ارسال کیا ہے جس میں فوری مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے مگر کشمیری عوام اپنی آزادی، حق خودارادیت اور اسلامی شناخت کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔