data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251122-03-5
مفتی منیب الرحمن
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اور کافروں کے اعمال چٹیل میدان میں چمکتی ہوئی ریت کی مانند ہیں جس کو پیاسا (دور سے) پانی گمان کرتا ہے‘ یہاں تک کے جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو وہاں کچھ نہیں پاتا اور وہ اللہ کو اپنے قریب پاتا ہے جو اس کا پورا حساب چکا دیتا ہے اور اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے‘‘۔ (النور: 39) الغرض تپتی دھوپ اور سورج کی تیز روشنی میں جب آدمی کو پیاس ستاتی ہے اور وہ پانی کی تلاش میں رہتا ہے تو صحرا میں دور سے چمکتی ہوئی ریت اْسے پانی نظر آتی ہے‘ مگر جب وہ اس کے قریب پہنچتا ہے تو وہ ریت کے چمکتے ہوئے ذرات ہوتے ہیں‘ پانی نہیں ہوتا‘ اسے ’’سَراب‘‘ کہتے ہیں۔ گویا یہ ایک دھوکا اور فریب ِ نظر ہے۔ کافر کے اعمال بھی اسی طرح دھوکا ہیں‘ جن پر وہ اتراتا ہے‘ مگر آخرت میں کچھ بھی نہیں پاتا اور عذابِ الٰہی اس کا منتظر رہتا ہے۔ اس لیے دھوکے اور فریب میں مبتلا کرنے والی ہر چیز کو ’’سراب‘‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ جدید انسانی تاریخ میں جمہوریت بھی ایک سَراب ہے‘ دھوکا ہے‘ فریب ہے اور اس کی آڑ میں جمہور یعنی عوام کو دھوکے میں رکھا جاتا ہے۔ تاثّر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ عوام کی حکومت ہے‘ اس لیے اس کی تعریف یوں کی گئی ہے: ’’Govt.
یہ خیال اس لیے آیا کہ نجم سیٹھی نے اپنے ایک پروگرام میں بتایا: ’’عوام جمہوریت سے مایوس ہوتے جا رہے ہیں‘‘۔ سروے کے تین عالمی اداروں یورپین سوشل‘ پیو ریسرچ سینٹر اور ایپسوس نے جمہوریت پر عوام کے اعتماد کے حوالے سے امریکا سمیت یورپ کے آٹھ نمایاں ممالک میں سروے کیا۔ اس میں صرف سویڈن کے 65 فی صد عوام نے جمہوریت پر اعتماد کا اظہار کیا‘ جبکہ باقی ممالک کے لوگ جمہوریت سے مایوس ہیں اور جمہوریت پر ان کا اعتماد بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے‘ حالانکہ یہ وہ ممالک ہیں جن کی جمہوریت کو ہمارے ہاں مثالی نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جہاں تک جمہوری انتخابات کے معتبر ہونے کا سوال ہے‘ تو صدر ٹرمپ خود امریکی نظامِ انتخاب کو جعلی قرار دے چکے ہیں‘ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے انتخابات کو بھی وہاں کی حزبِ اختلاف نے کبھی اطمینان بخش قرار نہیں دیا۔ بہار کے حالیہ ریاستی انتخاب کے موقع پر خواتین میں پاکستانی کرنسی کے مطابق تقریباً تیس ہزار روپے فی کس تقسیم کیے گئے اور اسی سبب ڈالے جانے والے ووٹوں میں خواتین کی ووٹنگ کی شرح مردوں کی بہ نسبت نو فی صد زیادہ ہو گئی۔ مغرب میں بھی تارکین ِ وطن کے خلاف نفرت موجود ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں اس نفرت کو ہر انتخاب میں ابھارتی رہتی ہیں۔ برطانیہ میں انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست جماعت ’’ریفارم یو کے‘‘ کے رہنما نائیجل فراج ہیں۔ ان کی جماعت نے گزشتہ انتخابات میں پارلیمنٹ میں پانچ نشستیں جیتی ہیں‘ ان کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد 28 ملین میں سے چار ملین (14.3 فی صد) ہے اور یہ اب دو بڑی پارٹیوں لیبر اور کنزرویٹو کے لیے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی تارکین ِ وطن کے شدید مخالف ہیں اور سفید فام عصبیت کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں‘ فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں بھی تارکین ِ وطن کے خلاف عصبیت کی لہر اٹھ رہی ہے۔
ہمارے پاس بھی عملی دنیا میں کوئی متبادل نظام نہیں ہے کہ جسے ہم ایک مثالی طرزِ حکومت کے طور پر پیش کر سکیں‘ وقتاً فوقتاً ’’اِحیائے خلافت‘‘ کی تحریکیں چلتی رہتی ہیں‘ لیکن ان تحریکوں کو بھی عوامی پذیرائی یا قبولِ عام نہیں مل سکا۔ لے دے کے ایک جمہوریت ہی رہ جاتی ہے‘ جو دنیا کے بیشتر ممالک میں رائج ہے۔ اگرچہ ایسی جمہوریت دنیا میں ناپید ہے‘ جہاں حقیقی معنوں میں جمہور کا راج ہو۔ مثلاً: کوئی بھی منتخب حکومت اپنے ملک کے تمام عوام کی نمائندہ نہیں ہوتی‘ کیونکہ رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال ہی نہیں کرتی۔ فرض کریں: ایک حلقہ ٔ انتخاب میں ایک لاکھ ووٹرز ہیں‘ اْن میں سے پچاس فی صد ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور انتخاب میں شریک پانچ دس امیدواروں میں سے ایک امیدوار کْل نہیں‘ بلکہ ڈالے گئے ووٹوں کا بیس فی صد لے کر اکثریت حاصل کرتا ہے اور وہ منتخب قرار پاتا ہے۔ حالانکہ وہ کل ووٹروں کا نمائندہ ہے اور نہ انتخابات میں حصہ لینے والے ووٹروں کی اکثریت کا نمائندہ‘ بلکہ درحقیقت وہ اقلیت کا نمائندہ ہے‘جس پر جمہوریت کا غلاف چڑھا کر اسے جمہور کا نمائندہ بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بھی اس صورت میں ہے کہ ہم فرض کر لیں کہ انتخابات ہر قسم کی دھاندلی سے پاک اور شفاف ہوئے ہیں‘ حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔
سیٹھی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً سارے نظاموں سے عوام مایوس ہوتے جا رہے ہیں‘ کیونکہ حکمرانی فیض رسانی کا نام ہے اور فیض رسانی کے سوتے خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے بعض ممالک میں ’’جین زی‘‘ کی تحریکیں بے چینی کی علامت بن کر نمودار ہو رہی ہیں۔ جین زی سے مراد وہ نسل ہے جو 1995ء کے بعد وجود میں آئی ہے یعنی یہ ’’کمپیوٹر دور‘‘ میں پروان چڑھنے والی نسل ہے۔ جو ممالک جی ڈی پی یعنی مجموعی قومی پیداوار کے اعتبار سے سرفہرست ہیں‘ وہاں بھی دولت چند بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہے‘ نچلی سطح تک تقسیم ِ دولت کا نظام منصفانہ نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کا تو ایجنڈا یہی ہے کہ بڑے سرمایہ داروں کو ٹیکس میں زیادہ سے زیادہ چھوٹ دی جائے‘ کیونکہ وہ خود اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکا اور تمام مغربی ممالک سرمایہ دارانہ نظام کے علمبردار ہیں‘ البتہ اس نظام میں رہتے ہوئے امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی اور برطانیہ میں لیبر پارٹی یا دیگر ممالک میں ایسی جماعتیں کوشش کرتی ہیں کہ دولت کی کچھ نہ کچھ فیض رسانی نچلے طبقات تک پہنچے‘ مگر ان کی پالیسیوں میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہوتا۔
ماضی قریب میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کے مشاہروں‘ مراعات بشمول پنشن پیکیج میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے‘ یہ اوسطاً بھارت کے عدالت عظمیٰ و عدالت عالیہ کے ججوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا تک ہے۔ حالانکہ بھارت کے زرِ مبادلہ کے ذخائر چھے سو ارب ڈالر بتائے جاتے ہیں‘ جبکہ پاکستانی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں سے دوست ممالک کے بار بار تجدید کیے جانے والے قرض زرِ مبادلہ کو نکال دیا جائے تو خالص پاکستانی وسائل سے قابل ِ استعمال زرِ مبادلہ کے ذخائر پانچ ارب ڈالر سے بھی کم ہیں‘ اگر ہمارا اندازہ غلط ہو تو کوئی صاحب ِ علم تصحیح فرما سکتے ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں چیئرمین سینیٹ‘ اسپیکر قومی اسمبلی‘ پارلیمانی ارکان اور وزرا کے مشاہروں و مراعات میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا گیا‘ یہ ایک غریب قوم کے ساتھ مذاق سے کم نہیں ہے۔
پارلیمانی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں تاکہ وہ قانونی مسودوں کی تفصیلی جانچ پڑتال کریں‘ پھر پارلیمنٹ میں ان پر بحث کی جائے‘ ضرورت محسوس ہو تو ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ قوانین دیرپا اور جامع ہوں‘ وقتی اور شخصی مفادات کے تابع نہ ہوں۔ مگر جس پارلیمان میں اٹھارہویں ترمیم کے موقع پر ایک دن میں ایک سو ایک آئینی ترمیمات‘ ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر 33 قوانین اور حال ہی میں چھبیسویں اور ستائیسویں ترامیم ایک دن میں منظور ہو گئیں تو عجلت میں منظورکیے ہوئے قوانین دیرپا کیسے ثابت ہو سکتے ہیں۔ تقریباً 240 سال میں امریکی دستور میں کل 27 ترامیم ہوئی ہیں‘ جبکہ 52 سال میں پاکستانی دستور میں اب تک 27 ترامیم ہو چکی ہیں اور اٹھائیسویں پائپ لائن میں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا نمائندہ جا رہے ہیں ممالک میں ہیں اور جاتا ہے اس لیے ہے اور
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی