اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی بین الوزارتی اجلاس ہوا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تجارتی حکمت عملی، معاشی سفارتکاری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین دونوں کیلئے ایک باہمی فائدہ مند فریم ورک ہے۔ تجارت اور معاشی سفارتکاری کو مضبوط بنانا ملک کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔ اجلاس میں معاون خصوصی طارق باجوہ اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے شرکت کی۔ سیکرٹری کامرس، سیکرٹری انسانی حقوق، متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ادھر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار سے امریکی ناظم الامور نٹیلی بیکر نے وزارت خارجہ میں ملاقات کی، جس میں پا ک-امریکا دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم نے آئی ٹی اور کریٹیکل منرلز کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان میں امریکی کمپنیوں کی بڑھتی دلچسپی کا خیرمقدم کیا۔ جبکہ غزہ میں جاری امن کوششوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے مشترکہ مقاصد کے لیے رابطوں کے تسلسل پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ