نائب وزیراعظم کی یورپی یونین مشن کی آئندہ پاکستان آمد کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
سٹی 42 : نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن کی آئندہ پاکستان آمد کیلئے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کردی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح بین الوزارتی اجلاس ہوا۔ اجلاس پاکستان کی تجارتی بڑھوتری کی حکمتِ عملی اور معاشی سفارت کاری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کیلئے منعقد کیا گیا۔ نائب وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ یورپی یونین کے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن کی آئندہ پاکستان آمد کیلئے تیاریاں حتمی شکل دیں۔
نئے نامزد وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کون ہیں ؟
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے زور دیا کہ جی ایس پی پلس پاکستان اور یورپی یونین دونوں کیلئے ایک باہمی فائدہ مند فریم ورک ہے۔نائب وزیراعظم نے اعادہ کیا کہ پاکستان کی تجارت اور معاشی سفارت کاری کو مضبوط بنانا ملک کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح ہے۔
اجلاس میں معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری کامرس، سیکرٹری انسانی حقوق اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
غیر فعال صارفین کا ڈیٹا ڈیلیٹ کرنا لازمی، ای کامرس و سوشل میڈیا کے لیے سخت ہدایات
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔