یوکرین جنگ کے بعد یورپ کے دفاعی اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے، یورپی یونین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
برسلز: یورپی یونین ( ای یو) فوجی کمیٹی کے چیئرمین جنرل شان کلینسی نے کہاہے کہ یورپ کو فوری طور پر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ روس کی جانب سے یوکرین پر جاری جنگ نے برِ اعظم کو جنگ اور امن کے درمیان ایک خطرناک گرے زون میں دھکیل دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق آئرش ایئر کور کے جنرل اور جون میں ای یو کے اعلیٰ فوجی عہدے پر فائز ہونے والے کلینسی نے برطانوی اخبار The Irish Times کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یورپ اب اپنے مشرقی سرحدی تحفظات کے حوالے سے غیر محفوظ نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یورپ میں دفاعی اخراجات میں اضافہ معاشرے کو عسکری بنانے یا مشترکہ EU فوج قائم کرنے کے مترادف نہیں بلکہ موجودہ خطرات کے مطابق ایک دیرینہ ضرورت ہے،کوئی بھی رکن ریاست اس سے محفوظ نہیں۔ میں ہائبرڈ خطرات، دہشت گردی، سائبر اور خلائی خطرات کی بات کر رہا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جغرافیہ اب سرحدی ہائبرڈ جنگ سے بچاؤ کی ضمانت نہیں، خاص طور پر یورپی ہوائی اڈوں پر ڈرون کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیشِ نظر، اس کے لیے نہ صرف مضبوط افواج بلکہ معاشرتی سطح پر بھی مزاحمت کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔
کلینسی نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ یورپ کو دفاعی تیاری کے لیے کہیں زیادہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس میں صرف جنگ کی تیاری نہیں بلکہ ریڈی نیس اور ریزیلینس شامل ہیں، امریکا کی جانب سے یورپ پر دفاعی اخراجات بڑھانے کے مطالبات اوباما کے دور سے شروع ہوئے تھے، مگر “ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عمل کو تیز کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ضرورت ہے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔