’سیف اینڈ سیکیور اسلام آباد‘ منصوبہ، اب ہر گھر اور گاڑی کی نگرانی ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
حکومت نے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد شہریوں، کاروباری اداروں اور غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد دھماکا: دارالحکومت کو دہشتگردوں سے محفوظ بنانے کے لیے ’سیکیور نیبر ہڈ‘ سروے کرانے کا اعلان
واضح رہے کہ اس منصوبے کو ’سیف اینڈ سکیور اسلام آباد‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کے ذریعے شہر میں جرائم کی روک تھام اور نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے گا۔
شہریوں اور دکانوں کا تفصیلی جائزہمنصوبے کے ابتدائی مرحلے میں اسلام آباد کے ہر گھر، دکان اور دفتر کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس جائزے میں رہائشیوں کی تعداد، عمر، گھر یا دکان کی ملکیت یا کرایہ داری، اور دیگر بنیادی معلومات شامل کی جائیں گی۔
یہ حکومت کی جانب سے شہریوں کے لیے ایک سہولت فراہم کی گئی ہے جس کے ذریعے وہ خود اپنے مکانات اور دکانوں کی معلومات فراہم کر سکیں گے۔
اگر کوئی شہری معلومات فراہم نہ کرے تو انتظامیہ دیگر ذرائع سے یہ تفصیلات حاصل کرے گی تاکہ کوئی خلل نہ آئے۔
گاڑیوں کی نگرانی اور شناختی نشانمنصوبے کے اگلے مرحلے میں شہر کی تمام گاڑیوں پر خصوصی شناختی نشان لگانے کی تجویز ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری نشاندہی ممکن ہو۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں کروائے جانے والا ’سیکیور نیبرہڈ سروے‘ کیا ہے؟ اور یہ کیوں ضروری ہے؟
اس کے ذریعے پولیس اور انتظامیہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام دہشت گردی یا دیگر خطرناک سرگرمیوں کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ چونکہ اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے، اس لیے یہاں سیکیورٹی کی ذمہ داری دیگر شہروں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل تقریباً 3 ماہ میں ممکن ہے اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی معلومات بروقت فراہم کریں تاکہ منصوبے کی درستگی میں مدد ملے۔
سیکیورٹی کے فوائد اور اثراتسیکیورٹی امور کے ماہر ڈاکٹر بابر علی کے مطابق یہ منصوبہ شہر میں رہنے والے شہریوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ اس کے ذریعے جرائم کی روک تھام، مشکوک سرگرمیوں کی شناخت، اور شہریوں کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد دھماکے کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنایا جائےگا، وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا
اس کے علاوہ انتظامیہ کو شہر کے مختلف علاقوں میں نگرانی کے لیے جدید اور مربوط نظام حاصل ہوگا، جس سے کسی بھی غیر قانونی کارروائی یا خطرناک واقعے کی بروقت اطلاع ممکن ہوگی۔
یہ منصوبہ کامیاب تب ہی ہو سکتا ہے جب شہری مکمل تعاون کریں اور اپنے مکانات اور دکانوں کی درست معلومات فراہم کریں۔
یاد رہے کہ حکومت نے شہریوں کے اعتماد کو مدنظر رکھتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ یہ معلومات صرف سکیورٹی کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی اور کسی بھی غیر قانونی استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’سیف اینڈ سکیور اسلام آباد اسلام اباد اسلام آباد نگرانی ڈاکٹر بابر علی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیف اینڈ سکیور اسلام آباد اسلام اباد اسلام ا باد نگرانی ڈاکٹر بابر علی اسلام ا باد اسلام آباد کے ذریعے کے لیے
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘