Islam Times:
2026-06-03@00:25:34 GMT

مینگک میں بارودی مواد سے تین گھروں کی تخریب

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

مینگک میں بارودی مواد سے تین گھروں کی تخریب

اسلام ٹائمز: تحریک کے الگ موقف کے مقابلے میں اکثریت کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا گیا، جس کے تحت 11 نومبر کو مینگک میں شہید زاہد حسین کے بیٹے اور دو مظلوم زخمی بچیوں کے بھائی ملزم سہیل حیدر کو حکومت کے حوالے کیا گیا، جبکہ قائد حسین سمیت دیگر تین افراد کے گھروں کو گرفتاری نہ دینے کی وجہ سے بموں سے اڑا کر مسمار کیا گیا۔ رپورٹ: ایس این طوری

منگل 11 نومبر کو مینگک میں حکومت نے انجمن حسینیہ، تحریک حسینی اور انور غگ کے ساتھ ایک ہفتے کے طویل مذاکرات کے بعد تین ملزمان قائد حسین اور اسکے دیگر دو ساتھیوں کے گھروں کو بموں سے اڑا کر مسمار کردیا۔ ان تین سمیت شہید زاہد حسین کے بیٹے سہیل حیدر پر بھی الزام تھا کہ ہفتہ دو ہفتے قبل مینگک کے قریب دریائے کرم میں انہوں نے ٹریکٹر کے ذریعے بجری لاتے ہوئے پیر قیوم کے تین مزدوروں کو نشانہ بنایا تھا، جن میں سے دو موقع پر جان بحق، جبکہ انکا ایک ساتھی شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اس کے ردعمل میں صدہ اور لوئر کرم میں اہل سنت نے شدید احتجاج کیا تھا اور انتقام کی دھمکی دینے کے علاوہ راستہ بھی بند کر دیا تھا۔ حکومت نے مذکورہ افراد کو سانحہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شیعہ نمائندہ تنظیموں سے انکی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم انجمن خصوصاً تحریک حسینی اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے رہی تھی اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کر رہی تھی کہ اس سے پہلے لوئر کرم کے اہل سنت نے 30 سے زیادہ خلاف ورزیاں کی ہیں، ردعمل میں حکومت نے انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

کسی کو گرفتار کیا گیا ہے، نہ ہی کسی کا گھر مسمار کیا گیا ہے، جبکہ حکومت اور اہل سنت کا موقف تھا کہ شیعوں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں تقریباً تمام کی تمام انہی کے ملکیتی علاقوں میں ہوئی ہیں۔ چنانچہ قاعدہ کے مطابق اس حوالے سے کارروائی مقامی شیعہ آبادی ہی کے خلاف کرنا پڑے گی۔ اس حوالے سے تحریک حسینی کا موقف تھا کہ آج کوئی ایف سی آر تو نہیں کہ حدود ذمہ داری کے تحت مقامی آبادی کے خلاف کارروائی کرنا پڑے، بلکہ کرم میں عدالتی نظام ہے، عدالتی نظام کے تحت علاقہ اور خاندان نہیں بلکہ ایف آئی آر کے تحت آنے والے مجرم کو دیکھا جاتا ہے۔ حاجی حامد حسین نے کہا کہ کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹتا، تو تحریک کے ایک مشر نے کہا کہ ایف آئی آر تو ان ملزمان پر بھی کسی نے نہیں کاٹی ہے، بلکہ حکومت از خود متحریک ہوئی ہے، جبکہ زاہد حسین اور اس کی بچیوں پر ہونے والے حملے کا تو حکومت سمیت سب کو علم ہے کہ وہ کوچی کی طرف سے کئے گئے اور لاکے سر سے فائرنگ کی گئی۔

واقعے کے بعد جنداڑی اور کوچی میں خوشی مناتے ہوئے فائرنگ ہوئی، یہی نہیں بلکہ واقعے سے چار دن قبل ریاض شاہین کے والد سابق محرر طارق نے جنازے پر دعویٰ کیا تھا کہ ہمیں اپنا انتقام لینے میں کبھی 3 دن سے زیادہ نہیں لگے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے ذمہ دار اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ از خود کوچی اور جنداڑی کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کریں۔ حاجی دلدار حسین کا کہنا تھا کہ اگر مینگک والے واقعاً ذاتی دشمنی کے لئے سیریئس ہیں، تو انہیں چاہیئے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے علاقوں سے دور کہیں اور انتقام لیں۔ جواباً تحریک حسینی کے رکن نے کہا کہ بگن میں پچھلے سال جو کارروائی ہوئی ہے، وہ تو بگن میں ہوئی کہیں علیزئی میں تو نہیں ہوئی، تو حاجی دلدار نے کہا کہ وہ تو واضح لشکر کشی تھی۔ جواباً تحریک حسینی کے رکن نے کہا کہ اسی طرح لشکر کشی تو اہل سنت درجنوں مرتبہ کرچکے ہیں۔

توت پائلہ میں علیزئی کے چند ہی گھرانون پر حملہ ہوا، مگر ایف آئی ار کے باوجود حکومت نے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے، لہذا یہ واضح تفریق ہے۔ تحریک کی جانب سے واضح مزاحمت کے باوجود چونکہ اکثریت خصوصاً انجمن حسینیہ اور انور غگ اس بات پر متفق بلکہ مصر تھے کہ علاقے کو بحران سے بچانے کے لئے ملزمان کے گھروں کو مسمار کیا جائے، جبکہ تحریک کا اس حوالے سے موقف یہ تھا کہ بیشک یہ اقدام اٹھایا جائے، تاہم اس سے پہلے طوری بنگش کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر فریق مخالف کے خلاف بھی اقدام کیا جائے، تاکہ ہمارے موکل بھی تو مطمئن ہو جائیں۔ بہر صورت تحریک کے الگ موقف کے مقابلے میں اکثریت کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ جس کے تحت 11 نومبر کو مینگک میں شہید زاہد حسین کے بیٹے اور دو مظلوم زخمی بچیوں کے بھائی ملزم سہیل حیدر کو حکومت کے حوالے کیا گیا جبکہ قائد حسین سمیت دیگر تین افراد کے گھروں کو گرفتاری نہ دینے کی وجہ سے بموں سے اڑا کر مسمار کیا گیا۔

11 نومبر کی کارروائی حکومت کی جانب سے صرف ایک ہی فریق طوری بنگش کے خلاف یہ چوتھی کارروائی تھی، جبکہ فریق مخالف کی 30 سے زائد خلاف ورزیوں کے باوجود ان کا کوئی گھر مسمار ہوا، نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب کرم کے عوام خصوصاً جوان مسائل کے حل کو اپنے نکتہ نظر سے دیکھتے ہوئے فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا پر ہر طرح کی جائز اور ناجائز پوسٹوں سے علاقے کی فضا کو مکدر کرکے آگ بھڑکانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ قومیں جوش اور جذبات سے نہیں بلکہ ہوش اور عقل سے آگے بڑھتی ہیں۔ چنانچہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک حسینی کے گھروں کو اس حوالے سے زاہد حسین مسمار کیا نے کہا کہ حکومت نے کیا گیا ایف آئی اہل سنت کے خلاف تھا کہ کے تحت

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان