مینگک میں بارودی مواد سے تین گھروں کی تخریب
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: تحریک کے الگ موقف کے مقابلے میں اکثریت کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا گیا، جس کے تحت 11 نومبر کو مینگک میں شہید زاہد حسین کے بیٹے اور دو مظلوم زخمی بچیوں کے بھائی ملزم سہیل حیدر کو حکومت کے حوالے کیا گیا، جبکہ قائد حسین سمیت دیگر تین افراد کے گھروں کو گرفتاری نہ دینے کی وجہ سے بموں سے اڑا کر مسمار کیا گیا۔ رپورٹ: ایس این طوری
منگل 11 نومبر کو مینگک میں حکومت نے انجمن حسینیہ، تحریک حسینی اور انور غگ کے ساتھ ایک ہفتے کے طویل مذاکرات کے بعد تین ملزمان قائد حسین اور اسکے دیگر دو ساتھیوں کے گھروں کو بموں سے اڑا کر مسمار کردیا۔ ان تین سمیت شہید زاہد حسین کے بیٹے سہیل حیدر پر بھی الزام تھا کہ ہفتہ دو ہفتے قبل مینگک کے قریب دریائے کرم میں انہوں نے ٹریکٹر کے ذریعے بجری لاتے ہوئے پیر قیوم کے تین مزدوروں کو نشانہ بنایا تھا، جن میں سے دو موقع پر جان بحق، جبکہ انکا ایک ساتھی شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اس کے ردعمل میں صدہ اور لوئر کرم میں اہل سنت نے شدید احتجاج کیا تھا اور انتقام کی دھمکی دینے کے علاوہ راستہ بھی بند کر دیا تھا۔ حکومت نے مذکورہ افراد کو سانحہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شیعہ نمائندہ تنظیموں سے انکی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم انجمن خصوصاً تحریک حسینی اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے رہی تھی اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کر رہی تھی کہ اس سے پہلے لوئر کرم کے اہل سنت نے 30 سے زیادہ خلاف ورزیاں کی ہیں، ردعمل میں حکومت نے انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
کسی کو گرفتار کیا گیا ہے، نہ ہی کسی کا گھر مسمار کیا گیا ہے، جبکہ حکومت اور اہل سنت کا موقف تھا کہ شیعوں کے خلاف ہونے والی کارروائیاں تقریباً تمام کی تمام انہی کے ملکیتی علاقوں میں ہوئی ہیں۔ چنانچہ قاعدہ کے مطابق اس حوالے سے کارروائی مقامی شیعہ آبادی ہی کے خلاف کرنا پڑے گی۔ اس حوالے سے تحریک حسینی کا موقف تھا کہ آج کوئی ایف سی آر تو نہیں کہ حدود ذمہ داری کے تحت مقامی آبادی کے خلاف کارروائی کرنا پڑے، بلکہ کرم میں عدالتی نظام ہے، عدالتی نظام کے تحت علاقہ اور خاندان نہیں بلکہ ایف آئی آر کے تحت آنے والے مجرم کو دیکھا جاتا ہے۔ حاجی حامد حسین نے کہا کہ کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹتا، تو تحریک کے ایک مشر نے کہا کہ ایف آئی آر تو ان ملزمان پر بھی کسی نے نہیں کاٹی ہے، بلکہ حکومت از خود متحریک ہوئی ہے، جبکہ زاہد حسین اور اس کی بچیوں پر ہونے والے حملے کا تو حکومت سمیت سب کو علم ہے کہ وہ کوچی کی طرف سے کئے گئے اور لاکے سر سے فائرنگ کی گئی۔
واقعے کے بعد جنداڑی اور کوچی میں خوشی مناتے ہوئے فائرنگ ہوئی، یہی نہیں بلکہ واقعے سے چار دن قبل ریاض شاہین کے والد سابق محرر طارق نے جنازے پر دعویٰ کیا تھا کہ ہمیں اپنا انتقام لینے میں کبھی 3 دن سے زیادہ نہیں لگے ہیں۔ چنانچہ اس حوالے سے ذمہ دار اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ از خود کوچی اور جنداڑی کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کریں۔ حاجی دلدار حسین کا کہنا تھا کہ اگر مینگک والے واقعاً ذاتی دشمنی کے لئے سیریئس ہیں، تو انہیں چاہیئے کہ وہ بھی انہی کی طرح اپنے علاقوں سے دور کہیں اور انتقام لیں۔ جواباً تحریک حسینی کے رکن نے کہا کہ بگن میں پچھلے سال جو کارروائی ہوئی ہے، وہ تو بگن میں ہوئی کہیں علیزئی میں تو نہیں ہوئی، تو حاجی دلدار نے کہا کہ وہ تو واضح لشکر کشی تھی۔ جواباً تحریک حسینی کے رکن نے کہا کہ اسی طرح لشکر کشی تو اہل سنت درجنوں مرتبہ کرچکے ہیں۔
توت پائلہ میں علیزئی کے چند ہی گھرانون پر حملہ ہوا، مگر ایف آئی ار کے باوجود حکومت نے ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے، لہذا یہ واضح تفریق ہے۔ تحریک کی جانب سے واضح مزاحمت کے باوجود چونکہ اکثریت خصوصاً انجمن حسینیہ اور انور غگ اس بات پر متفق بلکہ مصر تھے کہ علاقے کو بحران سے بچانے کے لئے ملزمان کے گھروں کو مسمار کیا جائے، جبکہ تحریک کا اس حوالے سے موقف یہ تھا کہ بیشک یہ اقدام اٹھایا جائے، تاہم اس سے پہلے طوری بنگش کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر فریق مخالف کے خلاف بھی اقدام کیا جائے، تاکہ ہمارے موکل بھی تو مطمئن ہو جائیں۔ بہر صورت تحریک کے الگ موقف کے مقابلے میں اکثریت کی رائے کو ترجیح دیتے ہوئے حکومت کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ جس کے تحت 11 نومبر کو مینگک میں شہید زاہد حسین کے بیٹے اور دو مظلوم زخمی بچیوں کے بھائی ملزم سہیل حیدر کو حکومت کے حوالے کیا گیا جبکہ قائد حسین سمیت دیگر تین افراد کے گھروں کو گرفتاری نہ دینے کی وجہ سے بموں سے اڑا کر مسمار کیا گیا۔
11 نومبر کی کارروائی حکومت کی جانب سے صرف ایک ہی فریق طوری بنگش کے خلاف یہ چوتھی کارروائی تھی، جبکہ فریق مخالف کی 30 سے زائد خلاف ورزیوں کے باوجود ان کا کوئی گھر مسمار ہوا، نہ ہی کسی کو گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب کرم کے عوام خصوصاً جوان مسائل کے حل کو اپنے نکتہ نظر سے دیکھتے ہوئے فیس بک اور سوشل میڈیا کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ میڈیا پر ہر طرح کی جائز اور ناجائز پوسٹوں سے علاقے کی فضا کو مکدر کرکے آگ بھڑکانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سے گزارش ہے کہ قومیں جوش اور جذبات سے نہیں بلکہ ہوش اور عقل سے آگے بڑھتی ہیں۔ چنانچہ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے نہایت احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تحریک حسینی کے گھروں کو اس حوالے سے زاہد حسین مسمار کیا نے کہا کہ حکومت نے کیا گیا ایف آئی اہل سنت کے خلاف تھا کہ کے تحت
پڑھیں:
گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
گوجرانوالہ (نمائندہ خصوصی) ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر گوجرانوالہ زون نے پاسپورٹ دفاتر کے باہر سرگرم ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 15 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گوجرانوالہ سرکل سے 7، گجرات سے 3 اور سیالکوٹ سے 5 ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا جو شہریوں سے جلد پاسپورٹ بنوانے کے نام پر رقم بٹورتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں پاسپورٹ دفاتر کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت کے شواہد بھی ملے۔ ملزموں کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔