5 بڑی فارما کمپنیاں پاکستان چھوڑ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان سے پانچ بڑی ملٹی نیشنل دواساز کمپنیاں اپنے مقامی آپریشنز ختم کر کے ملک سے جاچکی ہیں، یہ انکشاف قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تازہ رپورٹ میں کیا گیا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسمبلی کو بتایا کہ Bayer، ICI Pakistan، Sanofi-Aventis، Pfizer اور Novartis نے پاکستان میں اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس فروخت کر دیے ہیں، جنہیں اب مقامی کمپنیاں چلا رہی ہیں۔
ویلڈن گرین شرٹس۔تھینک یو سری لنکا;چئیرمین پی سی بی محسن نقوی
وزیر صحت کے مطابق یہ کمپنیاں مکمل بندش کے باعث نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک کاروباری فیصلے کے تحت پاکستان سے نکلیں، تمام فیکٹریاں نئے مالکان کے تحت کام جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ ضروری ادویات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق، Bayer کی لاہور میں موجود فیکٹری، ICI Pakistan کے مختلف شہروں میں آپریشنز، Sanofi کا کورنگی، کراچی میں صنعتی یونٹ، Pfizer کا SITE کراچی میں پلانٹ، Novartis کا ویسٹ وہارف کراچی میں یونٹ ، یہ کمپنیاں پاکستان سے نکلیں ہیں۔
پاکستان نے سری لنکا کو ہرا دیا
یہ تمام مینوفیکچرنگ یونٹس مقامی کمپنیوں کے حوالے ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فارما کمپنیوں کے ملک سے نکلنے کی وجوہات کی تفصیلات قومی اسمبلی کو فراہم نہیں کی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔