بھارت کشمیریوں کے ساتھ اپنے سلوک پر سنجیدگی سے غور کرے، میر واعظ
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل چھاپوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطگی، ملازمین کی برطرفی اور اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق کی معطلی نے کشمیریوں کے اندر ناامیدی اور ناراضگی کا احساس مزید گہرا کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیری عوام پریشان اور بے اختیار ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے اگست 2019ء میں ان کی اندرونی خودمختاری بھی چھین لی ہے۔ ذرائع کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل چھاپوں، گرفتاریوں، جائیدادوں کی ضبطگی، ملازمین کی برطرفی اور اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق کی معطلی نے کشمیریوں کے اندر ناامیدی اور ناراضگی کا احساس مزید گہرا کر دیا ہے۔ میر واعظ نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ اپنے سلوک پر سنجیدگی سے غور کرے۔ انہوں نے نئی دلی میں ہونے والے حالیہ بم دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی اس طرح کے سانحات کو ایک خاص مذہب اور برادری سے جوڑا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی طرف سے جو ڈرامہ رچایا جاتا ہے اس کی وجہ سے بھارت بھر میں موجود کشمیری طلباء اور مزدور پیشہ افراد عدم تحفظ کے احساس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ مجھ سمیت مقبوضہ علاقے کی تمام سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے ہمیشہ تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے، جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو کشمیر کے لوگ سب سے پہلے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ وہ خود گزشتہ کئی دہائیوں سے مشکلات و مصائب کی زندگی گزار رہے ہیں۔انہو ں نے واضح کیا کہ مسائل کو حل کرنے کا بہترین راستہ بات چیت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کے میر واعظ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :