شوگرمیں مبتلاملازمین کی 2تہائی منفی رویوں کا شکار، انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن کی نئی تحقیق کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس کا شکار 2تہائی ملازمین (68فیصد) کو کام کی جگہ پرمنفی سلوک یا امتیازی برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
14نومبر کو ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی جانے والی اس رپورٹ میں آئی ڈی ایف نے ذیابیطس کے مریض ملازمین کے ساتھ اس منفی اور امتیازی سلوک اورادارہ جاتی تعاون کی کمی کو اجاگر کیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس کے شکار 58 فیصد ملازمین نے کام کی جگہ پر منفی سلوک کے خوف کی وجہ سے ملازمت چھوڑنے پر غورکیا ہے، نیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائبٹیز ایجوکیٹرز آف پاکستان کی صدر اور آئی ڈی ایف کی نائب صدر ارم غفور نے ان نتائج کو تشویش ناک قراردیتے ہوئے کہاکہ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو کام کی جگہ پر امتیازی سلوک، تنہائی اور منفی رویوں کا سامنا کرنے پڑے، یہ دنیابھر کے آجرین کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ اس کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹائپ ون ذیابیطس کا شکار72فیصد ملازمین نے بتایاکہ انہیں منفی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ٹائپ 2کے مریضوں میں یہ شرح 41فیصد رہی، اس کے علاوہ ذیا بیطس کے شکار 52 فیصد ملازمین نے بتایا کہ انہیں ملازمت کے دوران ذیابیطس کیلئے وقفہ یاچھٹی کی اجازت نہیں دی گئی۔
تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے باعث یہ منفی سلوک صرف جذباتی اثرات کے علاوہ کیرئیر کے مواقعوں کو بھی محدود کردیتاہے، 37فیصد شرکاء نے بتایاکہ وہ ذیابیطس کی وجہ سے کیریئر کی ترقی یاتربیت کے مواقع سے محروم رہے ہیں۔
اگرچہ 20میں سے صرف ایک ملازم نے اپنی بیماری کو اپنے آجر سے خفیہ رکھا لیکن ان میں سے 50فیصد کو ڈر تھا کہ اس کا پتا چلنے پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گاجبکہ 30فیصداس بات پر فکرمند تھے کہ اس انکشاف کی وجہ سے ان کے کیرئیر کی ترقی متاثر ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً46فیصد نے اپنی بیماری صرف ایک قابلِ اعتماد ساتھی کے ساتھ شیئر کی جبکہ صرف 26فیصد نے مخصوص کولیگز کے اس تشخیص کا اشتراک کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ذیابیطس کے منفی سلوک کے مطابق
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔