روس کے یوکرینی دارالحکومت پر ڈرون اور میزائل حملے، متعدد ہلاکتوں کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیف: یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں روس نے دارالحکومت کیف پر اب تک کے سب سے بڑے ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی کہ روس نے ایک ہی رات میں 430 ڈرونز اور 18 میزائل فائر کیے جن کا براہ راست نشانہ شہری آبادی، رہائشی عمارتیں اور توانائی کا انفراسٹرکچر تھا۔
مقامی حکام کے مطابق اس شدید حملے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے جب کہ درجنوں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیے گئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کے باعث کئی رہائشی بلاکس جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں۔
یوکرینی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے درجنوں ڈرونز اور کئی میزائل کامیابی سے مار گرائے گئے، تاہم حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تباہی سے بچنا ممکن نہ رہا۔ حکام کے مطابق توانائی کے متعدد مراکز بری طرح متاثر ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں شہر کے کچھ حصوں میں بجلی کی فراہمی رک گئی اور ہیٹنگ سسٹمز نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔
عرب میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ روسی حملوں کے نتیجے میں آذربائیجان کے سفارتخانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے کے بعد باکو حکومت نے ماسکو کے سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور سفارتی عمارتوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یوکرین نے اس واقعے کو روس کی جانب سے بے پرواہ جارحیت قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ حملے نہ صرف جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ غیر ملکی سفارتخانوں کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
اُدھر ماسکو نے اس بڑے حملے کے بعد نیٹو ممالک کو ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کی جنگ میں براہ راست مداخلت سے گریز کریں۔ روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق حالیہ حملوں کے پس منظر میں نیٹو کو اپنے اقدامات میں بہترین احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ کسی بھی غلط قدم سے صورتحال روس اور نیٹو کے براہِ راست تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔
روسی حکام نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کی عسکری مدد کو جاری رکھنے سے تنازعہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔