Nawaiwaqt:
2026-06-03@01:07:11 GMT

امریکا کی بھارت سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

امریکا کی بھارت سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں

 امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد اور اداروں پر پابندیاں لگا دیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں میں شامل یہ افراد اور ادارے ایران، یو اے ای، چین، ترکیے، ہانگ کانگ، بھارت، جرمنی اور یوکرین میں موجود ہیں اور ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام میں مددگار خریداری نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے اور بحیرہ روم میں کمرشل سرگرمیوں کے لیے خطرہ ہیں، ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے عالمی اثرات کو روکنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایران کے جارحانہ میزائل پروگرام کو روکنا اور پاسدارانِ انقلاب کو ایسے وسائل تک رسائی سے محروم کرنا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔امریکی محکمۂ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر کو نشانہ بناتا ہے اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 (ترمیم شدہ شکل میں) کے تحت، جو دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتیوں پر پابندیوں سے متعلق ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان