امریکا کی بھارت سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں پر پابندیاں
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے وابستہ 32 افراد اور اداروں پر پابندیاں لگا دیں۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں میں شامل یہ افراد اور ادارے ایران، یو اے ای، چین، ترکیے، ہانگ کانگ، بھارت، جرمنی اور یوکرین میں موجود ہیں اور ایرانی میزائل اور ڈرون پروگرام میں مددگار خریداری نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے دعویٰ کیا کہ یہ نیٹ ورک مشرق وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے اور بحیرہ روم میں کمرشل سرگرمیوں کے لیے خطرہ ہیں، ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے عالمی اثرات کو روکنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اقدامات جاری رکھے گا۔محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایران کے جارحانہ میزائل پروگرام کو روکنا اور پاسدارانِ انقلاب کو ایسے وسائل تک رسائی سے محروم کرنا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔امریکی محکمۂ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر کو نشانہ بناتا ہے اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 (ترمیم شدہ شکل میں) کے تحت، جو دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتیوں پر پابندیوں سے متعلق ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔