کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
معراج اختر: کراچی ٹریفک پولیس نے شہر کے ٹریفک نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے 24 نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ یہ روبوٹک گاڑیاں پارکنگ اور لین کی خلاف ورزیوں کو خودکار طریقے سے مانیٹر کریں گی۔ گاڑیوں میں جدید سافٹ ویئر نصب کیا جائے گا جو قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کو فوری شناخت کرے گا۔
وفاقی عدالتوں کے ملازمین کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ روبوٹک گاڑیاں شاپنگ مالز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور مصروف شاہراہوں کے اطراف کھڑی گاڑیوں کو چیک کریں گی، اور سسٹم کی مدد سے ڈرائیور کو فوری چالان جاری کر دیا جائے گا۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق روبوٹک گاڑیاں آئندہ ہفتے سے سڑکوں پر کام کا آغاز کر دیں گی جس سے ٹریفک مانیٹرنگ میں شفافیت اور رفتار دونوں میں بہتری آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔