ایک بیان میں اپوزیشن لیڈر سندھ نے کہا کہ ٹریفک پلان کے بغیر سڑکیں بند کرنا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، صوبائی حکومت فوری طور پر ایک موثر متبادل ٹریفک پلان جاری کرے اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرے تاکہ کراچی کے شہریوں کی مشکلات کا فوری ازالہ ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے یونیورسٹی روڈ پر جاری ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں شہریوں کو درپیش شدید مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ حکومت کی سنگین مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ریڈ لائن پروجیکٹ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی، اور اب اس پر پانی کی لائن کی کھدائی نے اس اہم شاہراہ کو ایک جنگ زدہ علاقے سے کم نہیں بنایا، حکمران مکمل طور پر بے حس ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندوں سے مشاورت کیے بغیر سڑکیں کھود دینا ایک غیر جمہوری اور شہری دشمن اقدام ہے، جس کی وجہ سے طلبا، مریض اور ملازمین گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں، ترقی کے نام پر درحقیقت کراچی کو کھنڈر بنایا جا رہا ہے اور شہریوں کو ریلیف کے بجائے صرف اور صرف تکلیف مل رہی ہے۔ علی خورشیدی نے مطالبہ کیا کہ ٹریفک پلان کے بغیر سڑکیں بند کرنا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے، صوبائی حکومت فوری طور پر ایک موثر متبادل ٹریفک پلان جاری کرے اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرے تاکہ کراچی کے شہریوں کی مشکلات کا فوری ازالہ ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ٹریفک پلان

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان