قائداعظم یونیورسٹی کے مخصوص طلبا کے لیے کیفے سے مفت کھانے کی سہولت
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر انور شاہ نے ایک نہایت قابلِ قدر اور انسان دوست اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسے طلبا جو مالی مشکلات کے باعث یونیورسٹی کیفے سے کھانا خریدنے کے قابل نہیں ہوتے، وہاں مفت کھانا حاصل کر سکتے ہیں۔
طلبا کی مالی مشکلاتوی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر انور شاہ نے بتایا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں ملک کے مختلف اور دور دراز علاقوں سے طلبا آتے ہیں، جن میں سے بیشتر کوٹہ سسٹم کے تحت داخلہ لیتے ہیں۔ اسلام آباد میں رہائش اور دیگر اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے خاصا مشکل ہوتا ہے۔ مہینے کے کچھ دن گزرنے کے بعد، کئی طلبا پیسے بچانے کے لیے کھانا چھوڑ دیتے ہیں تاکہ دیگر ضروریات، جیسے بیماری، نوٹس یا فوٹو کاپی کے اخراجات پورے کر سکیں۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر ان کی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
خفیہ کوڈ سسٹمڈاکٹر انور شاہ کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ایک خفیہ کوڈ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ ہر مستحق طالب علم کو ایک منفرد کوڈ دیا جاتا ہے، جسے وہ کیفے کے عملے کو بتاتا ہے اور بغیر کسی سوال یا جھجک کے کھانا حاصل کر لیتا ہے۔ اس طرح طالب علم کی عزتِ نفس مجروح نہیں ہوتی اور وہ باوقار طریقے سے پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو چلانے کے لیے یونیورسٹی کے طلبا خود ڈونیشن دیتے ہیں تاکہ کوئی بھی ساتھی بھوکا نہ رہے۔
تعلیم اور انسانیتڈاکٹر انور شاہ کا یہ اقدام نہ صرف ہمدردی اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تعلیم گاہیں صرف علم نہیں بلکہ انسانیت کا درس دینے کی جگہ بھی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر انور شاہ کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔