قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر انور شاہ نے ایک نہایت قابلِ قدر اور انسان دوست اقدام کا آغاز کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایسے طلبا جو مالی مشکلات کے باعث یونیورسٹی کیفے سے کھانا خریدنے کے قابل نہیں ہوتے، وہاں مفت کھانا حاصل کر سکتے ہیں۔

طلبا کی مالی مشکلات

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر انور شاہ نے بتایا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں ملک کے مختلف اور دور دراز علاقوں سے طلبا آتے ہیں، جن میں سے بیشتر کوٹہ سسٹم کے تحت داخلہ لیتے ہیں۔ اسلام آباد میں رہائش اور دیگر اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے خاصا مشکل ہوتا ہے۔ مہینے کے کچھ دن گزرنے کے بعد، کئی طلبا پیسے بچانے کے لیے کھانا چھوڑ دیتے ہیں تاکہ دیگر ضروریات، جیسے بیماری، نوٹس یا فوٹو کاپی کے اخراجات پورے کر سکیں۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر ان کی صحت اور تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

خفیہ کوڈ سسٹم

ڈاکٹر انور شاہ کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے ایک خفیہ کوڈ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ ہر مستحق طالب علم کو ایک منفرد کوڈ دیا جاتا ہے، جسے وہ کیفے کے عملے کو بتاتا ہے اور بغیر کسی سوال یا جھجک کے کھانا حاصل کر لیتا ہے۔ اس طرح طالب علم کی عزتِ نفس مجروح نہیں ہوتی اور وہ باوقار طریقے سے پیٹ بھر کر کھا سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس منصوبے کو چلانے کے لیے یونیورسٹی کے طلبا خود ڈونیشن دیتے ہیں تاکہ کوئی بھی ساتھی بھوکا نہ رہے۔

تعلیم اور انسانیت

ڈاکٹر انور شاہ کا یہ اقدام نہ صرف ہمدردی اور بھائی چارے کی اعلیٰ مثال ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تعلیم گاہیں صرف علم نہیں بلکہ انسانیت کا درس دینے کی جگہ بھی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر انور شاہ کے لیے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی