فلسطینی گاؤں اُمالخیر کی مسماری فوراً روکی جائے، اقوامِ متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
دفترِ برائے انسانی حقوق نے جمعے کے روز مطالبہ کیا ہے کہ قابض صہیونی رجیم کی جانب سے جنوبی مغربی کنارے میں واقع فلسطینی گاؤں کی تباہی فوراً بند کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ہم الخلیل کی پہاڑیوں میں واقع فلسطینی گاؤں اُمالخیر کو تباہ کرنے کے حکم کے فوری خاتمے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے دفترِ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے روکا جائے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گاؤں اُمالخیر کی مسماری، مغربی کنارے کے الحاق کو مضبوط کرنے کے لیے اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اقدامات کی ایک نمایاں مثال ہے۔قطری ٹی وی الجزیرہ کے مطابق، بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اُمالخیر کے فلسطینی باشندوں کو جبری بے دخلی کے خطرے سے بچانے کے لیے اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالے۔ واضح رہے کہ گاؤں اُمالخیر میں 35 فلسطینی خاندان آباد ہیں، جو 1948–1949 کے دوران فلسطینیوں کی جبری اجتماعی بے دخلی (نکبت) کے وقت اپنی زمینوں سے نقب کے علاقے میں نکالے گئے تھے اور اُس وقت سے آج تک اسی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گاؤں ا م الخیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔