ایشوریہ رائے 52 سال کی ہوگئیں؛ جواں نظر آنے کا راز بھی بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
1994 میں مس ورلڈ بننے اور دہائیوں سے فلم بینوں کے دلوں پر راج کرنے والی ایشوریہ رائے آج اپنی 52 ویں سال گرہ منا رہی ہیں۔
ہم دل چکے صنم اور دیو داس جیسی سپر ہٹ فلمیں دینے والی ایشوریہ رائے نے اپنے کیریئر میں کبھی پیچھے مڑ کو نہیں دیکھا۔
انھوں نے نہ صرف بھارتی فلم انڈسٹری کے تما بڑے اعزاز اور انعامات اپنے نام کیے بلکہ بین الاقوامی ایوارڈ بھی اپنے نام کیا۔ فرانس حکومت نے ایشوریہ رائے کو آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز نے نوازا تھا۔
ایشوریہ رائے کی کامیابی صرف ان کی خوبصورتی کے مرہون منت نہیں ہے بلکہ ان کی پُراعتماد شخصیت اور باوقار انداز کا بھی ہے۔ وہ بیک وقت ایک اچھی اداکارہ، ماں اور بیوی ہیں۔
اداکارہ ایشوریہ کا حسن 52 سال کی ہونے کے باوجود تاحال تازگی اور کشش سے بھرپور ہے جس کا مقابلہ کوئی نووارد اداکارہ بھی نہیں کرسکتیں۔
بین الااقوامی جریدے سے گفتگو میں ایشوریہ رائے نے اپنے سدا بہار حسن کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ میری زندگی مصروف ترین ہے اور مجھے اس پر توجہ دینے کا وقت نہیں مل پاتا۔
انھوں نے کہا کہ ہم خواتین سارا دن مختلف کردار نبھاتی ہیں اور اسکن کیئر روٹین کا وقت نہیں مل پاتا لیکن ایک سادہ طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔
ایشوریہ رائے نے مشورہ دیا کہ سب سے آسان اور مؤثر چیز ہے صفائی اور ہائیڈریشن کو برقرار رکھنا ہے۔ صاف رہیں، پانی پئیں اور باقی سب خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔
انھوں نے مزید بتایا کہ میں چاہے گھر پر ہوں یا شوٹنگ پر موئسچرائزنگ نہیں بھولتی۔ جِلد کی نمی برقرار رکھنا فلمی کیریئر کے آغاز سے ہی میری روزمرہ کی عادت ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ موئسچرائزنگ جِلد کے لیے سانس لینے جتنا ضروری ہے۔ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، جِلد کو صاف رکھیں اور سب سے بڑھ کر خود سے محبت کریں۔
A post common by AishwaryaRaiBachchan (@aishwaryaraibachchan_arb)
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ایشوریہ رائے
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے ایک حبسِ بے جا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر جذباتی اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست گزار غلام حسین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت خاتون کو بازیاب کرا کر انہیں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور اپنی مرضی سے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے اس بیان اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے میں صورتحال جذباتی ہو گئی۔ شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئیں اور دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس موقع پر وہاں موجود افراد بھی افسردہ نظر آئے۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔
عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے دوسرے شوہر غلام حسین کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئیں، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خاندانی معاملات، عدالتی فیصلوں اور جذباتی اثرات پر بحث جاری ہے۔
https://mnews.pk/wp-content/uploads/2026/06/crying.mp4