’ دکھ کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں‘، وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ایس پی عدیل اکبر کے اہلِخانہ سے تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اسلام آباد پولیس کے وفات پانے والے افسر ایس پی عدیل اکبر کے اہلِخانہ سے اظہارِ تعزیت کے لیے کامونکی میں ان کی رہائش گاہ پہنچے۔
وزیرِ داخلہ نے ایس پی عدیل اکبر کے والد، بھائی اور دیگر اہلِخانہ سے ملاقات کی اور گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔
انہوں نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیں: خود کشی کرنے والے ایس پی عدیل اکبر کی میڈیکل رپورٹ اور چھٹی کی درخواست منظر عام پر
اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ ایس پی عدیل اکبر اسلام آباد پولیس کا قیمتی اثاثہ تھے۔ وہ انتہائی قابل، محنتی اور فرض شناس افسر تھے جن کی ناگہانی وفات سے انہیں دلی صدمہ پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس کے ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی،’ آخری کال ریکارڈ چیک کرنا چاہیے‘
وزیرِ داخلہ کے ہمراہ ڈی آئی جی عتیق طاہر، ڈی آئی جی جواد طارق اور ڈی آئی جی ہارون جوئیہ سمیت اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایس پی عدیل اکبر ڈی آئی جی عتیق طاہر، ڈی آئی جی جواد طارق کامونکی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس پی عدیل اکبر ڈی آئی جی عتیق طاہر ڈی آئی جی جواد طارق کامونکی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد پولیس ایس پی عدیل اکبر محسن نقوی ڈی آئی جی کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں