Express News:
2026-06-03@02:05:09 GMT

سزا ہوگئی مگر حساب ابھی باقی ہے

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

مصطفیٰ صفدر بیگ

یہ سزا اپنی جگہ ایک بڑا فیصلہ ہے مگر اس فیصلے کی پرتیں کھولیں تو اس کے اندر برسوں کی وہ کہانی چھپی ہے جس کے ہر موڑ پر ریاست کے زخم تازہ ہوجاتے ہیں۔ یہ محض ایک مقدمے کا اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی خون آشام بازگشت ہے جس نے پاکستان کی روح تک کو ہلا کر رکھ دیا۔ 

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو چودہ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے جو بظاہر ایک قانونی کارروائی تھی مگر اس کے پس منظر میں ہماری عسکری تاریخ کا وہ باب بھی وا ہوگیا جس میں طاقت کے بے جا استعمال نے پورے ملک کو عدم استحکام کے گرداب میں دھکیل دیا تھا۔ قانون نے اپنا راستہ لیا اور فوجی عدالت نے اپنا کام کر دکھایا مگر اس داستان کا اصل حساب ابھی باقی ہے۔

آئی ایس پی آر کا بیان واضح کرتا ہے کہ یہ مقدمہ محض رسمی کارروائی نہیں تھا۔ پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت طویل قانونی مراحل طے ہوئے، ملزم کو اپنی مرضی کی دفاعی ٹیم کا پورا حق دیا گیا، دلائل سنے گئے، ثبوت پرکھے گئے اور پھر چار سنگین ترین نوعیت کے جرائم پر اسے قصوروار پایا گیا۔ 

سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنا، ریاستی وسائل کو ذاتی اہداف کے لیے  استعمال کرنا اور شہریوں کو غیر قانونی اقدامات کے ذریعے نقصان پہنچانا۔ یہ وہ سیاہ دھبے ہیں جن کا بوجھ اگر ایک شخص کے کندھوں پر رکھ بھی دیا جائے تو قوم کے دل پر لگے چرکے اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ سزا اپنی جگہ قائم مگر سوالات کا سلسلہ طویل ہے۔

یہ فیصلہ ایک علامتی اقدام ضرور ہے۔ برسوں سے عوام یہ دہائی دیتے آئے ہیں کہ احتساب اگر سچا ہے تو پھر اس کی کرنیں اداروں کے اندر تک پہنچنی چاہئیں۔ ایک اصول اگر عام شہری پر لاگو ہوتا ہے تو پھر وہی اصول طاقت کے ایوانوں تک بھی رسائی رکھے۔ فوج نے اس فیصلے کے ذریعے اپنے داخلی احتساب کے دروازے کھولنے کی ایک اہم کوشش کی ہے۔ یہ ابتدا ہے، ایک سنگ میل ہے اور ایک اشارہ ہے کہ ادارہ کم از کم یہ تسلیم کرتا ہے کہ کوئی شخص قانون کا تابع ہے، اس سے بالاتر نہیں۔ مگر قوم کا سوال اتنا سادہ نہیں کہ صرف ایک سزا سے تسلی ہو جائے۔

اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ کیا یہ سزا اس دور کے ملبے کو صاف کر سکتی ہے جس میں اس ملک کی سیاست، معیشت اور معاشرت کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا تھا۔ بالخصوص وہ آٹھ برس جو 2018 سے 2023 تک اس قوم سے چرا لیے گئے، ان کے زیاں کا حساب کون دے گا؟ ان برسوں میں وہ سیاسی تانا بانا بُنا گیا جس کے دھاگے ابھی تک ہمارے دامن سے الجھے پڑے ہیں۔ ریاستی حدود پامال ہوئیں، سیاسی انجینئرنگ کو عروج ملا، مصنوعی بیانیے تراشے گئے، مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے  استعمال کیا گیا اور معاشرے میں تقسیم کی وہ خلیج ڈال دی گئی جو آج تک پاٹنے میں نہیں آ رہی۔

مذہبی شدت پسندی کی جس آگ کو اس دور میں ہوا دی گئی اس نے نہ صرف سیاست کو آلودہ کیا بلکہ معاشرت کی بنیادوں تک کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک ایسا مذہبی طبقہ جو کبھی نرم مزاجی اور اعتدال کی پہچان سمجھا جاتا تھا اسے جذباتی پریشر گروپ میں بدل دیا گیا۔ اسی سطحی تربیت کے نتیجے میں اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ اسی ذہنی یلغار نے عالمی معیار کے ٹیکنوکریٹس کو واپس پلٹنے پر مجبور کیا۔ یہ صرف سیاسی غلطی نہیں تھی بلکہ قومی جرم تھا۔ یہ قوموں کے مستقبل کو کنویں میں دھکیلنے والی فیصلہ سازیاں تھیں جو محض وقتی سیاسی فوائد کی خاطر کی گئیں۔

پنجاب کی دیہی سیاست میں ایک مخصوص جماعت کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے  ملک کو مذہبی جذبات کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ یہ کھیل اتنا خطرناک تھا کہ اس نے ایک نسل کی ذہنی تربیت کا رخ بدل دیا۔ آج تک ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح وہ ذہن تقسیم کا شکار ہیں، کس طرح ایک بیانیہ ان کے لیے  مقدس آیات کی تفسیر کا درجہ رکھتا ہے اور کس طرح حقیقت ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے؟ یہ سب ایک سزا سے ختم نہیں ہوجاتا، یہ لمبی جدوجہد مانگتا ہے اور شاید برسوں کی محنت، ریاضت اور کشٹ مانگتا ہے۔

معاشی تباہی بھی کسی فرد واحد کے کندھوں پر نہیں رکھی جا سکتی، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی عدم استحکام ہمیشہ معیشت کو نگل جاتا ہے۔ سرمایہ کار بھاگتے ہیں، روپے کی سانسیں ٹوٹتی ہیں، صنعت کار ہاتھ روک لیتے ہیں، بیروزگاری بڑھتی ہے اور پھر نوجوان بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں۔ یہ وہ سلسلہ تھا جو اس پورے دور میں چلتا رہا۔ ایک ملک جس کی معاشی لو پہلے ہی چراغ آخر شب کی مانند لڑکھڑا رہی تھی، اسے احتجاجی آندھیوں کے سپرد کردیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا چودہ سال کی سزا اس ڈوبتی معیشت کی تلافی کر سکتی ہے؟

سماجی سطح پر بھی نقصان کم نہ تھا۔ اختلافِ رائے کو غداری قرار دیا گیا، سیاسی نااتفاقی کو دشمنی کہہ کر پھیلایا گیا اور پروپیگنڈے کے سیلاب نے گھر گھر میں بدگمانی کی فضا پیدا کردی۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں خاندان تقسیم ہوئے، دوست دشمن بنے اور پڑوسی ایک دوسرے سے گریز کرنے لگے۔ ذہنی پراگندگی کی یہ فصل اتنی جلدی ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ لمبے عرصے کے اسباق مانگتی ہے۔

اس کہانی کا ایک اہم اور تلخ زاویہ یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ صرف ایک فرد کی کارستانی تھی۔ کیا ایک شخص پورے ادارے کو اپنی مرضی کے مطابق چلا سکتا تھا۔ اگر ہاں تو یہ ادارے کے نظام کی کمزوری ہے۔ اگر نہیں تو پھر خاموش رضامندی، مصلحت اور چشم پوشی نے اپنا کردار ادا کیا۔ یہ وہ سوال ہے جو اس وقت سب سے زیادہ سنجیدگی سے پوچھا جانا چاہیے۔ اگر نظام کا ڈھانچہ اس قابل ہے کہ ایک شخص اتنی طاقت اکٹھی کرلے کہ حکومتیں بنانے اور گرانے لگے، مذہبی گروہوں کو ہتھیار بنا لے، ملکی بیانیہ گھڑ لے اور ریاست کو اپنی مرضی کے تجربوں کی آتشیں بھٹی میں جھونک دے تو پھر مسئلہ فرد سے بڑھ کر پورے نظام کے ڈھانچے میں ہے۔

سزا درست فیصلے کی طرف یقیناً ایک اہم قدم ہے مگر اصل منزل وہیں ہے جہاں قوم کو یہ یقین دہانی مل سکے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ ایسے مضبوط بند باندھے جائیں جنہیں کوئی شخص اپنی خواہش کے لیے  توڑ نہ سکے۔ ایسے حفاظتی نظام موجود ہوں جو کسی افسر کو طاقت کے بے دریغ استعمال سے روک سکیں۔ اگر یہ اصلاحات نہیں ہوتیں تو پھر یہ سزا محض علامتی رہ جائے گی۔ اصلاح کا بنیادی اصول یہی ہے کہ غلطی سے سیکھا جائے اور آگے بڑھ کر اسے روکنے کا بندوبست کیا جائے۔

پاکستان کو اب ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں اداروں کی حدود واضح ہوں، حکومت کی طاقت آئین کی نکیل میں بندھی ہو، اور کوئی فرد یا گروہ ریاست کی جمہوری روانی پر شب خون نہ مار سکے۔ جہاں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں اور ادارے عوامی اختیار کے محافظ۔ ہوں۔ جہاں سیاسی انجینئرنگ کا دور ہمیشہ کے لیے  ختم ہو جائے اور ملک نئے دور میں داخل ہوسکے۔

فیض حمید کی سزا ایک سنگ میل ضرور ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ احتساب کا پہلا در کھل چکا ہے مگر آخری دروازہ ابھی بہت دور ہے۔ اصل احتساب اس وقت مکمل ہوگا جب اس دور کے زخموں کا اعتراف بھی کیا جائے گا، ان کا علاج بھی تجویز ہوگا اور وہ نظام بھی درست کیا جائے گا جس نے یہ زخم لگنے دیے۔ قوم کو یہ اعتماد درکار ہے کہ آئندہ کوئی فرد، کوئی ادارہ اور کوئی گروہ ریاست کی بساط سے یوں نہیں کھیل سکے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: دیا گیا نہیں ہو کے لیے تو پھر ہے اور

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد