پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ تشدد، انہدامی کاررائیوں، اور ووٹنگ کے حق سے محرومی کے بعد اب وقف املاک ایک طرز اور مسلمانوں کے خلاف ایک نئی ضرب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے سربراہ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ نئی "UMEED" ڈیٹا بیس کی رو سے ملک بھر میں 3.

55 لاکھ وقف جائیدادیں غائب ہیں۔ محبوبہ مفتی نے جمعہ کو سماجی رابطہ گاہ ایکس پر لکھا کہ پورے ملک میں 3.55 لاکھ سے زیادہ وقف جائیدادیں غائب ہیں اور صرف جموں و کشمیر میں نئے UMEED ڈیٹا بیس میں 7240 انٹریز غائب ہوگئی ہیں۔ یہ کمی وقف جائیدادوں کی شفافیت اور حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تشدد، انہدامی کاررائیوں، اور ووٹنگ کے حق سے محرومی کے بعد اب وقف املاک ایک طرز اور مسلمانوں کے خلاف ایک نئی ضرب ہے۔ محبوبہ مفتی نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مسئلہ کہاں تک پہنچے گا۔

مرکزی حکومت کی UMEED ڈیٹا بیس میں گزشتہ سال اور اس سال کی وقف جائیدادوں میں فرق دکھایا گیا ہے۔ محبوبہ مفتی کی جانب سے پوسٹ کئے گئے اسکرین شاٹ کے مطابق، کچھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں وقف جائیدادوں میں اضافہ ہوا ہے، جن میں مہاراشٹر، انڈمان اینڈ نیکوبار آئی لینڈ، دہلی، بہار اور تلنگانہ شامل ہیں۔ تاہم باقی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں وقف جائیدادوں میں کمی آئی ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایک سال میں ان جائیدادوں میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ مہاراشٹر میں ہوا ہے، جہاں وقف جائیدادوں میں 26,238 کا اضافہ ہوا۔

بہار میں بھی سنّی اور شیعہ مسلممانوں کی وقف جائیدادوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم سب سے زیادہ غائب جائیدادیں اتر پردیش میں رپورٹ ہوئیں ہیں اور سب سے کم کمی چندی گڑھ میں دیکھی گئی۔ اترپردیش میں شیعہ مسلم وقف جائیدادوں میں 8,901 کی کمی آئی ہے، جب کہ سنّی مسلم وقف جائیدادوں میں 1,30,816 کی کمی آئی ہے۔ جموں و کشمیر میں بھی وقف جائیدادوں میں 7,240 کی کمی آئی ہے۔ واضح رہے کہ 6 دسمبر تک UMEED پورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن کی چھ ماہ کی مدت ختم ہوئی جس میں سب سے زیادہ جموں کشمیر وقف بورڈ نے 99.02 فیصد جائیدادیں اپلوڈ کیں۔ وہیں بعض املاک لائن آف کنٹرول کے نزدیک واقع ہونے کی وجہ سے وہ املاک رجسٹر نہیں کی جا سکیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی کمی آئی ہے سے زیادہ

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا