لاہور، جیولری مارکیٹ سے امانتاً رکھوایا گیا 20 کلو سے زائد سونا غائب
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک)اچھرہ کے علاقے میں جیولری مارکیٹ میں تاجروں کی جانب سے بطور امانت رکھا ہوا 20 کلو سے زائد سونا مبینہ طور پر غائب کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ اچھرہ کی جیولری مارکیٹ میں متعدد جیولرز نے شیخ وسیم اختر نامی تاجر کے پاس اپنا سونا امانتاً رکھوایا تھا لیکن شیخ وسیم کئی روز سے دکان پر نہیں آیا تو تاجروں نے تالے توڑ کر لاکر چیک کیا۔
پولیس نے بتایا کہ دکانداروں کا الزام عائد کیا کہ لاکر کھولا گیا تو 20 کلو سے زائد سونا غائب نکلا اور غائب شدہ سونے کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے ہے اور متاثرہ دکان دار نے بتایا کہ شیخ وسیم نامی تاجر 60 لاکھ کی کمیٹی بھی لے کر فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق متاثرین میں سے ایک دکان دار محمد احمد نے واقعے کی درخواست اچھرہ تھانے میں جمع کرا دی ہے، جس کے بعد پولیس نے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔